Showing posts with label الطاف حسین حالی. Show all posts
Showing posts with label الطاف حسین حالی. Show all posts

Saturday, 3 June 2023

بنے ہیں مدحت سلطان دو جہاں کے لیے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بنے ہیں مدحتِ سلطان دو جہاں کے لیے

سخن زباں کے لیے اور زباں دہاں کے لیے

گھر اس کا مورد قرآن و مہبط جبریل

در اس کا کعبہ مقصود انس و جاں کے لیے

وہ شاہ جس کا محب امن و عافیت میں مدام

محبت اس کی حصار حصیں اماں کے لیے

Friday, 2 June 2023

اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے خاصۂ خاصانِ رُسلؐ وقتِ دعا ہے

اُمت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے

جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے

پردیس میں وہ آج غریب الغرباء ہے

جس دین کے مدعو تھے کبھی قیصر و کسرٰی

خود آج وہ مہمان سرائے فقراء ہے

Sunday, 11 September 2022

دل آپ پر تصدق جاں آپ پر سے صدقے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


دل آپﷺ پر تصدق،۔ جاں آپﷺ پر سے صدقے

آنکھوں سے سر ہے قرباں، آنکھیں ہیں سر سے صدقے

کہتے ہیں گرد عارض،۔۔ باہم یہ دونوں گیسو

میں ہوں اِدھر سے صدقے، تُو بھی اُدھر سے صدقے

کہتا ہے مہر؛ مہ سے، رُخ دیکھ کر نبیﷺ کا

تُو شام سے ہے قرباں، میں ہوں سحر سے صدقے

Saturday, 30 July 2022

کل مدعی کو آپ پہ کیا کیا گماں رہے

کل مدعی کو آپ پہ کیا کیا گماں رہے

بات اس کی کاٹتے رہے اور ہمزباں رہے

یارانِ تیز گام نے محمل کو جا لیا

ہم محوِ نالۂ جرسِ کارواں رہے

یا کھینچ لائے دیر سے رندوں کو اہلِ وعظ

یا آپ بھی ملازمِ پیرِ مغاں رہے

Wednesday, 13 July 2022

آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہم

 آگے بڑھے نہ قصۂ عشقِ بتاں سے ہم

سب کچھ کہا مگر نہ کھُلے رازداں سے ہم

اب بھاگتے ہیں سایۂ عشقِ بتاں سے ہم

کچھ دل سے ہیں ڈرے ہوئے کچھ آسماں سے ہم

خود رفتگیِ شب کا مزا بھولتا نہیں

آئے ہیں آج آپ میں یارب کہاں سے ہم

Tuesday, 10 January 2017

پیش از ظہور عشق کسی کا نشاں نہ تھا

پیش از ظہورِ عشق کسی کا نشاں نہ تھا
تھا حسن میزبان، کوئی میہماں نہ تھا
ہم کو بہار میں بھی سرِ گلستاں نہ تھا
یعنی خزاں سے پہلے ہی دل شادماں نہ تھا
ملتے ہی ان کے بھول گئیں کلفتیں تمام
گویا ہمارے سر پہ کبھی آسماں نہ تھا

چھیڑ اب نہ اے تصور مژگان یار بس

چھیڑ اب نہ اے تصورِ مژگانِ یار بس
کافی ہے خار خار غمِ روزگار بس
یہ غم نہیں ہے وہ جسے کوئی بٹا سکے
غمخواری اپنی رہنے دے اے غمگسار بس
ہر داغ فصلِ گل کی نشانی ہے اے صبا
گل گشت کو بہت ہے دلِ داغدار بس

جب یہ کہتا ہوں بس دنیا پہ اب تف کیجیے

جب یہ کہتا ہوں بس دنیا پہ اب تُف کیجیئے
نفس کہتا ہے ابھی چندے توقف کیجیئے
وہاں رسائی ہے صبا کی اور نہ قاصد کو ہے بار
اس سے آخر کس طرح پیدا تعارف کیجیئے
ضبط کیجیئے دردِ دل تو ضبط کی طاقت نہیں
اور کھلا جاتا ہے رازِ دل اگر اف کیجیئے

Sunday, 8 January 2017

کہیں خوف اور کہیں غالب ہے رجا اے زاہد

کہیں خوف اور کہیں غالب ہے رجا اے زاہد
تیرا قبلہ ہے جدا،۔ میرا جدا اے زاہد
درگزر گر نہیں کرتا وہ گنہگاروں سے
تو تِرا اور کوئی ہو گا خدا اے زاہد
ہم دکھاویں گے کہ زہد اور ہے نیکی کچھ اور
کچھ بہت دور نہیں روزِ جزا اے زاہد

میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں

میں تو میں غیر کو مرنے سے اب انکار نہیں
اک قیامت ہے تِرے ہاتھ میں تلوار نہیں
کچھ پتا منزلِ مقصود کا پایا ہم نے 
جب یہ جانا کہ ہمیں طاقتِ رفتار نہیں
چشمِ بددور بہت پھرتے ہیں اغیار کے ساتھ
غیرتِ عشق سے اب تک وہ خبردار نہیں

وصل کا اس کے دل زار تمنائی ہے

وصل کا اس کے دلِ زار تمنائی ہے
نہ ملاقات ہے جس سے نہ شناسائی ہے
قطع امید نے دل کر دئیے یکسُو، صد شکر
شکل مدت میں یہ اللّٰہ نے دکھلائی ہے
قوتِ دستِ خدائی ہے شیکبائی میں 
وقت جب آ کے پڑا ہے یہی کام آئی ہے

Wednesday, 4 January 2017

سنگ گراں ہے راہ میں تمکین یار کا

سنگِ گراں ہے راہ میں تمکین یار کا
اب دیکھنا ہے زور دلِ بے قرار کا
اک خُو سی ہو گئی ہے تحمل کی ورنہ
وہ حوصلہ رہا نہیں صبر و قرار کا
آؤ، مٹا بھی دو خلشِ آرزوئے قتل
کیا اعتبار زندگیِ مستعار کا

حقیقت محرم اسرار سے پوچھ

حقیقت محرمِ اسرار سے پوچھ
مزا انگور کا مے خوار سے پوچھ
وفا اغیار کی اغیار سے سن
مِری الفت در و دیوار سے پوچھ
ہماری آہِ بے تاثیر کا حال
کچھ اپنے دل سے کچھ اغیار سے پوچھ

ملنے کی جو نہ کرنی تھی تدبیر کر چکے

ملنے کی جو نہ کرنی تھی تدبیر کر چکے
آخر کو ہم حوالۂ تقدیر کر چکے
افسوں شبِ وصال کے واں کارگر نہیں
نالے شبِ فراق کے تاثیر کر چکے
اے دل اب آزمائشِ تقدیر کا ہے وقت
وہ امتحانِ برشِ شمشیر کر چکے

Wednesday, 6 January 2016

دھوم تھی اپنی پارسائی کی

دھوم تھی اپنی پارسائی کی
کی بھی اور کسی سے آشنائی کی
کیوں بڑھاتے ہو اخلاط بہت
ہم کو طاقت نہیں جدائی کی
منہ کہاں چھپاؤ گے ہم سے
تم کو عادت ہے خود نمائی کی

کچھ ہنسی کھیل سنبھلنا غم ہجراں میں نہیں

کچھ ہنسی کھیل سنبھلنا غمِ ہجراں میں نہیں
چاک دل میں ہے مِرے جو کہ گریبان میں نہیں
عشق نے مصر میں سو بار زلیخا سے کہا
فتنۂ دہر ہے جو حسن وہ کنعاں میں نہیں
یاں بھی ہے کون و مکاں سے دلِ وحشی آزاد
جس کو ہم قید سمجھتے ہیں وہ زنداں میں نہیں

یہ ہیں واعظ سب پہ منہ آتے ہیں آپ

یہ ہیں واعظ، سب پہ منہ آتے ہیں آپ
ناصحِ قوم اس پہ کہلاتے ہیں آپ
بس بہت طعن و ملامت کر چکے
کیوں زباں رِندوں کی کھلواتے ہیں آپ
ہے صراحی میں وہی لذت کہ جو
چڑھ کے منبر پر مزا پاتے ہیں آپ

کل مدعی کو آپ پر کیا کیا گماں رہے

کل مدعی کو آپ پر کیا کیا گماں رہے
بات اس کی کاٹتے رہے اور ہمزباں رہے
یارانِ تیز گام نے محمل کو جا لیا
ہم محوِ نالۂ جرسِ کارواں رہے
یا کھینچ لائے دہر سے رِندوں کو اہلِ وعظ
یا آپ بھی ملازمِ پیر مغاں رہے

Tuesday, 5 January 2016

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
یارب اس اختلاط کا انجام ہو بخیر
تھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں
اک عمر چاہیے کہ گوارا ہو نیشِ عشق
رکھی ہے آج لذتِ زخمِ جگر کہاں

جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے

جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے
قدم دشت پیماں ہوا چاہتا ہے
دمِ گریہ کس کا تصور ہے دل میں
کہ اشکوں سے دریا بہا چاہتا ہے
خط آنے لگے شکوہ آمیز ان کے
مِلاپ ان سے گویا ہوا چاہتا ہے