عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بنے ہیں مدحتِ سلطان دو جہاں کے لیے
سخن زباں کے لیے اور زباں دہاں کے لیے
گھر اس کا مورد قرآن و مہبط جبریل
در اس کا کعبہ مقصود انس و جاں کے لیے
وہ شاہ جس کا محب امن و عافیت میں مدام
محبت اس کی حصار حصیں اماں کے لیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بنے ہیں مدحتِ سلطان دو جہاں کے لیے
سخن زباں کے لیے اور زباں دہاں کے لیے
گھر اس کا مورد قرآن و مہبط جبریل
در اس کا کعبہ مقصود انس و جاں کے لیے
وہ شاہ جس کا محب امن و عافیت میں مدام
محبت اس کی حصار حصیں اماں کے لیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے خاصۂ خاصانِ رُسلؐ وقتِ دعا ہے
اُمت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغرباء ہے
جس دین کے مدعو تھے کبھی قیصر و کسرٰی
خود آج وہ مہمان سرائے فقراء ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
دل آپﷺ پر تصدق،۔ جاں آپﷺ پر سے صدقے
آنکھوں سے سر ہے قرباں، آنکھیں ہیں سر سے صدقے
کہتے ہیں گرد عارض،۔۔ باہم یہ دونوں گیسو
میں ہوں اِدھر سے صدقے، تُو بھی اُدھر سے صدقے
کہتا ہے مہر؛ مہ سے، رُخ دیکھ کر نبیﷺ کا
تُو شام سے ہے قرباں، میں ہوں سحر سے صدقے
کل مدعی کو آپ پہ کیا کیا گماں رہے
بات اس کی کاٹتے رہے اور ہمزباں رہے
یارانِ تیز گام نے محمل کو جا لیا
ہم محوِ نالۂ جرسِ کارواں رہے
یا کھینچ لائے دیر سے رندوں کو اہلِ وعظ
یا آپ بھی ملازمِ پیرِ مغاں رہے
آگے بڑھے نہ قصۂ عشقِ بتاں سے ہم
سب کچھ کہا مگر نہ کھُلے رازداں سے ہم
اب بھاگتے ہیں سایۂ عشقِ بتاں سے ہم
کچھ دل سے ہیں ڈرے ہوئے کچھ آسماں سے ہم
خود رفتگیِ شب کا مزا بھولتا نہیں
آئے ہیں آج آپ میں یارب کہاں سے ہم