جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے
قدم دشت پیماں ہوا چاہتا ہے
دمِ گریہ کس کا تصور ہے دل میں
کہ اشکوں سے دریا بہا چاہتا ہے
خط آنے لگے شکوہ آمیز ان کے
ابھی لینے پائے نہیں دم جہاں میں
اجل کا تقاضا ہوا چاہتا ہے
وفا شرطِ الفت ہے لیکن کہاں تک
دل اپنا بھی تجھ سا ہوا چاہتا ہے
غمِ رشک کو تلخ سمجھے تھے ہمدم
سو وہ بھی گوارا ہوا چاہتا ہے
بہت چین سے دن گزرتے ہیں حالی
کوئی فتنہ برپا ہوا چاہتا ہے
الطاف حسین حالی
No comments:
Post a Comment