Showing posts with label تنویر وصفی. Show all posts
Showing posts with label تنویر وصفی. Show all posts

Tuesday, 23 June 2026

شہر انا تھا میں دروازہ تھے تم بھی

 منظر منظر قریہ قریہ تھے تم بھی

خاک نژادو پھول ستارہ تھے تم بھی

اب شہر صد جبر میں ساکت ہم ٹھہرے

عہد تحیر میں نا رفتہ تھے تم بھی

میں صدیوں کی آرائش کرنے والا

میرے مساعی کے پروردہ تھے تم بھی

Tuesday, 24 February 2026

آنکھ ٹپکائے نا لہو دل کا

 آنکھ ٹپکائے نا لہو دل کا

فائدہ کچھ تو غم کے حاصل کا

دن بھکاری کی آرزو کی طرح

رات کشکول جیسے سائل کا

کس کو نظم حیات نے مارا

شور زنداں میں ہے سلاسل کا

Sunday, 16 November 2025

یہ اجلے چہرے مگر داغدار کیا کیا کچھ

 امید صبح خیال بہار کیا کیا کچھ

گنوا کے بیٹھے ہیں ہم جاں فگار کیا کیا کچھ

جنوں قماش تھی اپنی خرد کی دنیا بھی

سو بزم بزم سمیٹا غبار کیا کیا کچھ

وفا خلوص مروت سپاس دل داری

ہوئے ہیں ہم سے گناہ کبار کیا کیا کچھ

Sunday, 7 February 2021

سراب جان کے رویا کہ بے سبب تو نہیں

سراب جان کے رویا کہ بے سبب تو نہیں

نظر کے سامنے صحرائے کم طلب تو نہیں

درون جاں ہے بس اک بازگشت آہ و فغاں

نصیب سنگ صفت نغمہ و طرب تو نہیں

گلاب شکل شگافوں کی دل دہی ہے عبث

نسیم صبح یہ ہنگام شب دو شب تو نہیں