منظر منظر قریہ قریہ تھے تم بھی
خاک نژادو پھول ستارہ تھے تم بھی
اب شہر صد جبر میں ساکت ہم ٹھہرے
عہد تحیر میں نا رفتہ تھے تم بھی
میں صدیوں کی آرائش کرنے والا
میرے مساعی کے پروردہ تھے تم بھی
منظر منظر قریہ قریہ تھے تم بھی
خاک نژادو پھول ستارہ تھے تم بھی
اب شہر صد جبر میں ساکت ہم ٹھہرے
عہد تحیر میں نا رفتہ تھے تم بھی
میں صدیوں کی آرائش کرنے والا
میرے مساعی کے پروردہ تھے تم بھی
آنکھ ٹپکائے نا لہو دل کا
فائدہ کچھ تو غم کے حاصل کا
دن بھکاری کی آرزو کی طرح
رات کشکول جیسے سائل کا
کس کو نظم حیات نے مارا
شور زنداں میں ہے سلاسل کا
امید صبح خیال بہار کیا کیا کچھ
گنوا کے بیٹھے ہیں ہم جاں فگار کیا کیا کچھ
جنوں قماش تھی اپنی خرد کی دنیا بھی
سو بزم بزم سمیٹا غبار کیا کیا کچھ
وفا خلوص مروت سپاس دل داری
ہوئے ہیں ہم سے گناہ کبار کیا کیا کچھ
سراب جان کے رویا کہ بے سبب تو نہیں
نظر کے سامنے صحرائے کم طلب تو نہیں
درون جاں ہے بس اک بازگشت آہ و فغاں
نصیب سنگ صفت نغمہ و طرب تو نہیں
گلاب شکل شگافوں کی دل دہی ہے عبث
نسیم صبح یہ ہنگام شب دو شب تو نہیں