Showing posts with label فراغ روہوی. Show all posts
Showing posts with label فراغ روہوی. Show all posts

Wednesday, 29 July 2020

کہ میرے دل میں ترا گھر ہوا تو کیسے ہوا

میں ایک بوند سمندر ہوا تو کیسے ہوا
یہ معجزہ مِرے اندر ہوا تو کیسے ہوا
یہ بھید سب پہ اجاگر ہوا تو کیسے ہوا
کہ میرے دل میں تِرا گھر ہوا تو کیسے ہوا
نہ چاند نے کِیا روشن مجھے نہ سورج نے
تو میں جہاں میں منور ہوا تو کیسے ہوا

دن میں بھی حسرت مہتاب لیے پھِرتے ہیں

دن میں بھی حسرتِ مہتاب لیے پھِرتے ہیں
ہاۓ کیا لوگ ہیں کیا خواب لیے پھرتے ہیں
ہم کہاں منظر شاداب لیے پھرتے ہیں
در بہ در دیدۂ خوں ناب لیے پھرتے ہیں
وہ قیامت سے تو پہلے نہیں ملنے والا
کس لیے پھر دلِ بے تاب لیے پھرتے ہیں

Wednesday, 19 April 2017

چھو لیں گے ہم جب سوچیں گے

چھو لیں گے ہم جب، سوچیں گے
پھول ہیں یا وہ لب، سوچیں گے
پھولوں جیسے لوگ ہیں کیسے
دل ٹوٹے گا تب سوچیں گے
دیکھ رہے تھے کیوں مجھ کو تم
دل ہی دل میں سب سوچیں گے

ہے فصل گل تو دل میں اتر جانا چاہیے

ہے فصلِ گل تو دل میں اتر جانا چاہیے
ہر سمت خوشبوؤں کو بکھر جانا چاہیے
راہِ وفا میں جاں سے گزر جانا چاہیے
جب یہ نہ ہو تو شرم سے مر جانا چاہیے
گرداب سے بھی صاف گزر جانا چاہیے
یا کشتی انا سے اتر جانا چاہیے

کبھی حریف کبھی ہمنوا ہمیں ٹھہرے

کبھی حریف، کبھی ہم نوا ہمِیں ٹھہرے
کہ دشمنوں کے بھی مشکل کشا ہمیں ٹھہرے
کسی نے راہ کا پتھر ہمیں کو ٹھہرایا
یہ اور بات کہ پھر آئینہ ہمیں ٹھہرے
جو آزمایا گیا شہر کے فقیروں کو
تو جاں نثارِ طریقِ انا ہمیں ٹھہرے

اب کے سفر میں پچھلے سفر سا مزا نہ تھا

اب کے سفر میں پچھلے سفر سا مزا نہ تھا
تلوے میں میرے جیسے کوئی آبلہ نہ تھا
یہ کیا کہ دو قدم پہ ہی سانسیں اکھڑ گئیں
پہلے تو چلتے چلتے کبھی ہانپتا نہ تھا
میں اس کے نام پہلے بھی لکھتا تھا خط، مگر
کاغذ تو اس طرح سے کبھی بھیگتا نہ تھا

میاں دیکھا نہیں جاتا کریں کیا دیکھ لیتے ہیں

میاں، دیکھا نہیں جاتا، کریں کیا دیکھ لیتے ہیں
یہ دنیا جو دکھاتی ہے تماشا دیکھ لیتے ہیں
وہی منظر، وہی مایوس چہرے گھر سے باہر تک
ہے عادت دیکھ لینے کی لہٰذا دیکھ لیتے ہیں
جو بس چلتا تو آنکھوں کو کبھی رسوا نہ کرتے ہم
عجب اک خواب ہے جو بے ارادہ دیکھ لیتے ہیں

Tuesday, 13 December 2016

لبوں کے سامنے خالی گلاس رکھتے ہیں

لبوں کے سامنے خالی گلاس رکھتے ہیں
سمندروں کی طرح ہم بھی پیاس رکھتے ہیں
صدائیں دیتے اسے تو ضرور سن لیتا
ہم اس کے آگے کہاں التماس رکھتے ہیں
ہر ایک گام پہ روشن ہوا خدا کا گماں
اسی گماں پہ یقیں کی اساس رکھتے ہیں

ہمارے ساتھ امید بہار تم بھی کرو

ہمارے ساتھ امیدِ بہار تم بھی کرو 
اس انتظار کے دریا کو پار تم بھی کرو
ہوا کا رخ تو کسی پَل بھی بدل سکتا ہے
اس ایک پل کا، ذرا انتظار تم بھی کرو 
میں ایک جگنو، اندھیرا مِٹانے نکلا ہوں
رِدائے تِیرہ شبی تار تار تم بھی کرو 

جس دن سے کوئی خواہش دنیا نہیں رکھتا

جس دن سے کوئی خواہش دنیا نہیں رکھتا
میں دل میں کسی بات کا کھٹکا نہیں رکھتا
مجھ میں ہے یہی عیب کہ اوروں کی طرح میں
چہرے پہ کبھی دوسرا چہرا نہیں رکھتا
کیوں قتل مجھے کر کے ڈبوتے ہو ندی میں
دو دن بھی کسی لاش کو دریا نہیں رکھتا

نواح جاں میں کسی کے اترنا چاہا تھا

نواحِ جاں میں کسی کے اترنا چاہا تھا
یہ جرم میں نے بس اک بار کرنا چاہا تھا
جو بت بناؤں گا تیرا تو ہاتھ ہوں گے قلم
یہ جانتے ہوئے جرمانہ بھرنا چاہا تھا
بغیر اس کے بھی اب دیکھیۓ کہ زندہ ہوں
وہ جس کے ساتھ کبھی میں نے مرنا چاہا تھا

Sunday, 29 November 2015

دیکھا جو آئینہ تو مجھے سوچنا پڑا

دیکھا جو آئینہ تو مجھے سوچنا پڑا
خود سے نہ مل سکا تو مجھے سوچنا پڑا
اُس کا جو خط مِلا تو مجھے سوچنا پڑا
اپنا سا وہ لگا تو مجھے سوچنا پڑا
مجھ کو تھا یہ گماں کہ مجھی میں ہے اک انا 
دیکھی تِری انا تو مجھے سوچنا پڑا 

تمہارا وعدہ خدائی قرار تھوڑی ہے

تمہارا وعدہ خدائی قرار تھوڑی ہے
چمکتی شے کا کوئی اعتبار تھوڑی ہے
رئیس شہر! تِرا انتظار تھوڑی ہے
تِرے کرم پہ مِرا انحصار تھوڑی ہے
جنوں میں حد سے ہم اہلِ جنوں گزر جائیں
ہمارا اہلِ خرد میں شمار تھوڑی ہے

دیار شب کا مقدر ضرور چمکے گا

دیارِ شب کا مقدر ضرور چمکے گا
یہیں کہیں سے چراغوں کا نور چمکے گا
کہاں ہوں میں کوئی موسیٰؑ کہ اک صدا پہ مِری
وہ نور پھر سے سرِ کوہِ طور چمکے گا
تِرے جمال کا نشہ شراب جیسا ہے
ہماری آنکھوں سے اس کا سرور چمکے گا

کمی ذرا سی اگر فاصلے میں آ جائے

کمی ذرا سی اگر فاصلے میں آ جائے 
وہ شخص پھر سے مِرے رابطے میں آ جائے 
اسے کرید رہا ہوں طرح طرح سے کہ وہ 
جہت جہت سے مِرے جائزے میں آ جائے
کمال جب ہے کہ ، سنورے وہ اپنے درپن میں 
اور اس کا عکس، مِرے آئینے میں آ جائے 

کہاں کہاں نہ ہوا لے گئی اڑا کے مجھے

کہاں کہاں نہ ہوا لے گئی اڑا کے مجھے
ستم یہ کس نے کیا ہے دھواں بنا کے مجھے
بہت اداس ہوا آئینہ دکھا کے مجھے
زمانہ دیکھ چکا ہے ہدف بنا کے مجھے
ابھی تھمی بھی نہ تھیں سسکیاں کہ رات گئے
کسی کی چیخ نے پھر رکھ دیا ہلا کے مجھے

Thursday, 22 August 2013

خوب نبھے گی ہم دونوں میں میرے جیسا تو بھی ہے

خوب نبھے گی ہم دونوں میں، میرے جیسا تُو بھی ہے
 تھوڑا جھوٹا میں بھی ٹھہرا، تھوڑا جھوٹا تُو بھی ہے
 جنگ انا کی ہار ہی جانا بہتر ہے اب لڑنے سے
 میں بھی ہوں ٹوٹا ٹوٹا سا، بکھرا بکھرا تُو بھی ہے
جانے کس نے ڈر بویا ہے ہم دونوں کی راہوں میں
 میں بھی ہوں کچھ خوف زدہ سا، سہما سہما تُو بھی ہے