Tuesday, 13 December 2016

نواح جاں میں کسی کے اترنا چاہا تھا

نواحِ جاں میں کسی کے اترنا چاہا تھا
یہ جرم میں نے بس اک بار کرنا چاہا تھا
جو بت بناؤں گا تیرا تو ہاتھ ہوں گے قلم
یہ جانتے ہوئے جرمانہ بھرنا چاہا تھا
بغیر اس کے بھی اب دیکھیۓ کہ زندہ ہوں
وہ جس کے ساتھ کبھی میں نے مرنا چاہا تھا
شب فراق اجل کی تھی آرزو مجھ کو
یہ روز روز تو میں نے نہ مرنا چاہا تھا
کشید عطر کیا جا رہا ہے اب مجھ سے
کہ مشک بن کے فضا میں بکھرنا چاہا تھا
اس ایک بات پہ ناراض ہیں سبھی سورج
کہ میں نے ان سا افق پر ابھرنا چاہا تھا
لگا رہا ہے جو شرطیں مِری اڑانوں پر
مِرے پروں کو اسی نے کترنا چاہا تھا
اسی طرف ہے زمانہ بھی آج محو سفر
فراغؔ میں نے جدھر سے گزرنا چاہا تھا

فراغ روہوی

No comments:

Post a Comment