Showing posts with label شہپر رسول. Show all posts
Showing posts with label شہپر رسول. Show all posts

Thursday, 20 January 2022

چپ گزر جاتا ہوں حیران بھی ہو جاتا ہوں

 چپ گزر جاتا ہوں حیران بھی ہو جاتا ہوں

اور کسی دن تو پریشان بھی ہو جاتا ہوں

سیدھا رستہ ہوں مگر مجھ سے گزرنا مشکل

گمرہوں کے لیے آسان بھی ہو جاتا ہوں

فائدہ مجھ کو شرافت کا بھی مل جاتا ہے

پر کبھی باعث نقصان بھی ہو جاتا ہوں

Tuesday, 27 July 2021

ہمارے درد کی جانب اشارہ کرتی ہیں

 ہمارے درد کی جانب اشارا کرتی ہیں

فقط کہانیاں ہم کو گوارا کرتی ہیں

یہ سادگی یہ نجابت جو عیب ہیں میرے

سنا تھا ان پہ تو نسلیں گزارا کرتی ہیں

خود اپنے سامنے ڈٹ جاتی ہیں جو شخصیتیں

وہ جیتتی ہیں کسی سے نہ ہارا کرتی ہیں

Tuesday, 18 August 2020

بد دعا اس نے مجھے دی تھی دعا دی میں نے

بد دعا اس نے مجھے دی تھی دعا دی میں نے
اس نے دیوار اٹھائی تھی، گرا دی میں نے
خانۂ خواب سے نکلا تھا، مگر وحشت میں
پھر سے زنجیرِ درِ خواب ہلا دی میں نے
شہر سے میرے تعلق کا سبب پوچھا گیا
سادگی میں تِری تصویر بنا دی میں نے

ملتے ہیں نقوش پا نقش پا نہیں ملتا

ملتے ہیں نقوشِ پا، نقشِ پا نہیں ملتا
راستے تو ملتے ہیں، راستا نہیں ملتا
تاریخ اب بنے کیسے کیا لکھے مؤرخ بھی
حادثے تو ملتے ہیں، واقعہ نہیں ملتا
دُکھ کی داستاں ہے یہ اور اس کا دُکھ یہ ہے
ایک لفظ بھی اس میں دُکھ بھرا نہیں ملتا

Monday, 17 August 2020

نہ آنکھ اٹھی کسی لفظ بے ضرر کی طرف

نہ آنکھ اٹھی کسی لفظِ بے ضرر کی طرف
نہ سنگ آئے کبھی شاخِ بے ثمر کی طرف
مجھے بھی لمحۂ ہجرت نے کر دیا تقسیم
نگاہ گھر کی طرف ہے، قدم سفر کی طرف
اِس ایک وہم میں چپ چپ ہیں سُوکھتی شاخیں
طیور🕊 لوٹ نہ آئیں کہیں شجر کی طرف

کہاں کوئی جو زباں بھی جگر بھی رکھتا ہو

کہاں کوئی جو زباں بھی جگر بھی رکھتا ہو
پھر اپنے ہاتھ بھی گردن بھی سر بھی رکھتا ہو
خموش ہونٹ بھی عرضِ ہنر بھی رکھتا ہو
تغیرات پہ گہری 👀نظر بھی رکھتا ہو
کئی امیدیں بجھاتا ہو ایک جنبش میں
کئی چراغ🪔 سرِ رہگزر بھی رکھتا ہو

Sunday, 16 August 2020

واقعوں کو بھول دامن سے ہوا کرتے رہے

واقعوں کو بھول، دامن سے ہوا کرتے رہے
داستاں بننے کی سب رسمیں ادا کرتے رہے
ہم کہ جو درخواست لکھنے پر کبھی مائل نہ تھے
جانے کن مجبوریوں میں "التجا" کرتے رہے
پھول کھلتے اور بکھر کر ٹوٹتے گرتے رہے
غنچے اپنے شاد رہنے کی دعا کرتے رہے

پھر سے وہی حالات ہیں امکاں بھی وہی ہے

پھر سے وہی حالات ہیں، امکاں بھی وہی ہے
ہم بھی ہیں وہی، مسئلۂ جاں بھی وہی ہے
کچھ بھی نہیں بدلا ہے یہاں، کچھ نہیں بدلا
آنکھیں بھی وہی، خوابِ پریشاں بھی وہی ہے
یہ جال ⽹ بھی اس نے ہی بچھایا تھا، اسی نے
خوش خوش بھی وہی شخص تھا، حیراں بھی وہی ہے

Saturday, 15 August 2020

دور تک دھند دھواں ہے سب کچھ

دور تک دھند، دھواں ہے سب کچھ
وہ جو سب کچھ تھا، کہاں ہے سب کچھ
اک جہاں، بس یہ جہاں، بس یہ جہاں
واقعی، کیا یہ جہاں ہے سب کچھ؟
پیش معنی ہیں بلا کے اسرار
اور پسِ لفظ عیاں ہے سب کچھ

سخن کیا جو خموشی سے شاعری جاگی

سخن کیا جو خموشی سے شاعری جاگی
چراغ لفظوں کے جل اٹھے روشنی جاگی
ضد ملال و مسرت میں عمر بیت گئی
یہ دیو سویا نہ وہ خواب کی پری جاگی
تو برف درد سمندر میں اضطراب آیا
تو خشک چشم جزیرے میں کچھ نمی جاگی

دل میں شعلہ تھا سو آنکھوں میں نمی بنتا گیا

دل میں شعلہ تھا سو آنکھوں میں نمی بنتا گیا
یاد کا بے نام جگنو🌟 روشنی بنتا گیا
ایک آنسو اجنبیت کا ندی بنتا گیا
ایک لمحہ تھا تکلف کا صدی بنتا گیا
کیا لبا لب روز و شب تھے اور کیا وحشی تھا میں
زندگی سے دور ہو کر آدمی بنتا گیا

Friday, 14 August 2020

خوش یقینی میں یوں خلل آیا

خوش یقینی میں یوں خلل آیا
کچھ نکلنا تھا، کچھ نکل آیا
سر سرِ خشک پانی پانی ہوئی
جل بجھی شاخ پر جو پھل آیا
میں نے بھی دیکھنے کی حد کر دی
وہ بھی تصویر سے نکل آیا

شکل بھی بھلی پائی دل بھی آئینہ پایا

پھیلتا خموشی میں نقطۂ صدا پایا
اک سفید صفحے سے لفظ کا پتا پایا
تم سا اس زمانے میں کس نے معجزہ پایا
شکل بھی بھلی پائی، دل بھی آئینہ پایا
فکر تھی بلند اپنی اور قدم خلا میں تھے
جب زمیں پر آئے تب ہم نے راستہ پایا

Thursday, 27 April 2017

میری نظر کا مدعا اس کے سوا کچھ بھی نہیں

میری نظر کا مدعا اس کے سوا کچھ بھی نہیں
اس نے کہا کیا بات ہے؟ میں نے کہا کچھ بھی نہیں
ہر ذہن کو سودا ہوا،۔ ہر آنکھ نے کچھ پڑھ لیا 
لیکن سرِ قرطاسِ جاں میں نے لکھا کچھ بھی نہیں
دیوارِ شہرِ عصر پر کیا قامتیں چسپاں ہوئیں 
کوشش تو کچھ میں نے بھی کی لیکن بنا کچھ بھی نہیں

ہم زندگی شناس تھے سب سے جدا رہے

ہم زندگی شناس تھے سب سے جدا رہے
بستی میں ہول آیا، تو جنگل میں جا رہے
کمرے میں میرے دھوپ کا آنا بوقت صبح
آنکھوں میں کاش ایک ہی منظر بسا رہے
پھر آج میرے درد نے مجھ کو منا لیا
کوئی کسی عزیز سے کب تک خفا رہے