چپ گزر جاتا ہوں حیران بھی ہو جاتا ہوں
اور کسی دن تو پریشان بھی ہو جاتا ہوں
سیدھا رستہ ہوں مگر مجھ سے گزرنا مشکل
گمرہوں کے لیے آسان بھی ہو جاتا ہوں
فائدہ مجھ کو شرافت کا بھی مل جاتا ہے
پر کبھی باعث نقصان بھی ہو جاتا ہوں
چپ گزر جاتا ہوں حیران بھی ہو جاتا ہوں
اور کسی دن تو پریشان بھی ہو جاتا ہوں
سیدھا رستہ ہوں مگر مجھ سے گزرنا مشکل
گمرہوں کے لیے آسان بھی ہو جاتا ہوں
فائدہ مجھ کو شرافت کا بھی مل جاتا ہے
پر کبھی باعث نقصان بھی ہو جاتا ہوں
ہمارے درد کی جانب اشارا کرتی ہیں
فقط کہانیاں ہم کو گوارا کرتی ہیں
یہ سادگی یہ نجابت جو عیب ہیں میرے
سنا تھا ان پہ تو نسلیں گزارا کرتی ہیں
خود اپنے سامنے ڈٹ جاتی ہیں جو شخصیتیں
وہ جیتتی ہیں کسی سے نہ ہارا کرتی ہیں