پھر سے وہی حالات ہیں، امکاں بھی وہی ہے
ہم بھی ہیں وہی، مسئلۂ جاں بھی وہی ہے
کچھ بھی نہیں بدلا ہے یہاں، کچھ نہیں بدلا
آنکھیں بھی وہی، خوابِ پریشاں بھی وہی ہے
یہ جال ⽹ بھی اس نے ہی بچھایا تھا، اسی نے
اے وقت! کہیں اور نظر ڈال، یہ کیا ہے
مدت کے وہی ہاتھ، گریباں بھی وہی ہے
ہر تیر ↙ اسی کا ہے، ہر اک زخم اسی کا
ہر زخم پہ انگشت بدنداں بھی وہی ہے
کل شام جو آنکھوں سے چھلک آیا تھا میری
تم خوش ہو کہ اس شام کا عنواں بھی وہی ہے
شہپر وہی بھولا ہوا قصہ، وہی پھر سے
اچھا ہے تِری شان کے شایاں بھی وہی ہے
شہپر رسول
No comments:
Post a Comment