جب نہ ساتھی ہو کوئی بگڑی ہوئی تقدیر کا
اے دلِ مایوس! دامن تھام لے تدبیر کا
کر رہا ہوں اس لیے میں کعبۂ دل کا طواف
عکس ہے اس آئینے میں آپ کی تصویر کا
تیرے در کی خاک دنیا میں میسر ہو جسے
جیتے جی طالب نہ ہو وہ پھر کسی اکسیر کا
جب نہ ساتھی ہو کوئی بگڑی ہوئی تقدیر کا
اے دلِ مایوس! دامن تھام لے تدبیر کا
کر رہا ہوں اس لیے میں کعبۂ دل کا طواف
عکس ہے اس آئینے میں آپ کی تصویر کا
تیرے در کی خاک دنیا میں میسر ہو جسے
جیتے جی طالب نہ ہو وہ پھر کسی اکسیر کا
دل کیوں نہ چاک کر دوں چاکِ جگر کے بدلے
وہ پھول پھینکتے ہیں تیرِ نظر کے بدلے
اللہ! آج کیا ہے جو آنسوؤں کے قطرے
لائے ہیں لختِ دل کو لختِ جگر کے بدلے
کم ظرفئ نظر کا دیکھا فریب دیکھا
آئینہ پوجتا ہوں، آئینہ گر کے بدلے
جاتا ہے صبر بے سر و ساماں کیے ہوئے
دل کو رہینِ حسرت و ارماں کیے ہوئے
دو دن کی زندگی کا اللہ فریب رے
دارالمحن میں ہے مجھے مہماں کیے ہوئے
جاتا کہاں ہے اب یہ اداؤں کا قافلہ
دل کو مِرے حوالۂ ارماں کیے ہوئے
اے خیالِ یار تُو دل میں جو مہماں ہو گیا
پھر دلِ ویران مِرا، رشکِ گُلستاں ہو گیا
تھی مِرے دل کی اُمنگوں ہی سے دنیا کی بہار
دل پریشاں کیا ہوا، عالم پریشاں ہو گیا
دم محبت کا بھرا کرتا تھا جو دل وصل کی
اب وہ شامِ ہجر آتے ہی پشیماں ہو گیا