Showing posts with label فاضل کاشمیری. Show all posts
Showing posts with label فاضل کاشمیری. Show all posts

Tuesday, 18 March 2025

جب نہ ساتھی ہو کوئی بگڑی ہوئی تقدیر کا

 جب نہ ساتھی ہو کوئی بگڑی ہوئی تقدیر کا

اے دلِ مایوس! دامن تھام لے تدبیر کا

کر رہا ہوں اس لیے میں کعبۂ دل کا طواف

عکس ہے اس آئینے میں آپ کی تصویر کا

تیرے در کی خاک دنیا میں میسر ہو جسے

جیتے جی طالب نہ ہو وہ پھر کسی اکسیر کا

Thursday, 23 January 2025

دل کیوں نہ چاک کر دوں چاکِ جگر کے بدلے

 دل کیوں نہ چاک کر دوں چاکِ جگر کے بدلے

وہ پھول پھینکتے ہیں تیرِ نظر کے بدلے

اللہ! آج کیا ہے جو آنسوؤں کے قطرے

لائے ہیں لختِ دل کو لختِ جگر کے بدلے

کم ظرفئ نظر کا دیکھا فریب دیکھا

آئینہ پوجتا ہوں، آئینہ گر کے بدلے

Tuesday, 19 November 2024

جاتا ہے صبر بے سر و ساماں کیے ہوئے

 جاتا ہے صبر بے سر و ساماں کیے ہوئے

دل کو رہینِ حسرت و ارماں کیے ہوئے

دو دن کی زندگی کا اللہ فریب رے

دارالمحن میں ہے مجھے مہماں کیے ہوئے

جاتا کہاں ہے اب یہ اداؤں کا قافلہ

دل کو مِرے حوالۂ ارماں کیے ہوئے

Monday, 18 November 2024

اے خیال یار تو دل میں جو مہماں ہو گیا

 اے خیالِ یار تُو دل میں جو مہماں ہو گیا

پھر دلِ ویران مِرا، رشکِ گُلستاں ہو گیا

تھی مِرے دل کی اُمنگوں ہی سے دنیا کی بہار

دل پریشاں کیا ہوا، عالم پریشاں ہو گیا

دم محبت کا بھرا کرتا تھا جو دل وصل کی

اب وہ شامِ ہجر آتے ہی پشیماں ہو گیا