نوحہ پڑھنے والا کوئی نہیں
موت میرے دروازے پر
دستک نہیں دیتی
حالانکہ اُسے ہمارا گلی نمبر معلوم ہے
ابھی کل کی بات ہے
ہمسایوں کی نئی نویلی دُلہن بھگا لے گئی
میں اس کی تاک میں رہتا ہوں
وہ آ کر مجھے لے جائے
قرضے میں دی ہوئی رُوح
جو اب بغاوت پر اُتر آئی ہے
میں کبھی کبھار موت کو کُتا سمجھ کر
زندگی کا گوشت پھینکتا ہوں
وہ بھونکتی ہوئی آگے نِکل جاتی ہے
شاید میری موت پر
نوحہ پڑھنے والا کوئی نہیں
کئی سال بیت گئے
میں لفظوں کا انبار لگا چُکا ہوں
مگر آج اس کے سامنے کیا پھینکوں
جسے دیکھ کر وہ جان سکے
میرے بعد یہ الفاظ
نوحہ پڑھیں گے
حفیظ تبسم
No comments:
Post a Comment