Thursday, 11 June 2026

مجھے دریا کی موجوں سے بچا لے جائے گا کوئی

 مجھے دریا کی موجوں سے بچا لے جائے گا کوئی

میں ایسی بُوند ہوں جس کو چُرا لے جائے گا کوئی

بُجھا کر طاق میں رکھ دے گا یہ دستِ سحر مجھ کو

مگر جب شام آئے گی، جلا لے جائے گا کوئی

یہی کچھ سوچ کر اپنی حویلی چھوڑ آیا تھا

اگر میں رُوٹھ جاؤں گا منا لے جائے گا کوئی

رئیسوں کی یہ بستی ہے کھڑے ہیں راہ میں سائل

رکھے گا ہاتھ میں سِکہ، دُعا لے جائے گا کوئی

مجھے اچھا نہیں لگتا کسی سے مانگ کر پڑھنا

کتابیں میں خریدوں گا، اُٹھا لے جائے گا کوئی

چُرا لائی ہے پھُولوں سے مجھے بادِ صبا خالد

میں خُوشبو ہوں مجھے اپنا بنا لے جائے


خالد رحیم

No comments:

Post a Comment