برنگِ شمع رو رو کر بسر کی
شبِ غم اس طرح ہم نے سحر کی
بتائیں کیا کہ کس نے لے لیا دل
خدا جانے کہ آفت تھی کِدھر کی
کہاں تک ساقیا! جورِ تغافل؟
خبر لے اپنے مست بے خبر کی
نہ رُلوائے کہیں خُوں حسرتِ دل
ہنسی اچھی نہیں زخمِ جگر کی
لُٹا پہلو میں دل بیٹھے ہو توفیق
خبر بھی ہے تمہیں کچھ اپنے گھر کی
توفیق حیدرآبادی
No comments:
Post a Comment