Showing posts with label منصور عثمانی. Show all posts
Showing posts with label منصور عثمانی. Show all posts

Monday, 3 October 2022

کتنے افسانوں کا ہوتا ہے جنم رات گئے

 کتنے افسانوں کا ہوتا ہے جنم رات گئے

بول اٹھتے ہیں جو پتھر کے صنم رات گئے

ٹُوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے

جگمگاتے ہیں تِرے نقشِ قدم رات گئے

کیا بتائیں، جو گُزرتی ہے ہمارے دل پر

یاد آتے ہیں جو اپنوں کے ستم رات گئے

Tuesday, 6 July 2021

عشق ان کو عطا نہیں ہوتا

 عشق ان کو عطا نہیں ہوتا

جن کے دل میں خدا نہیں ہوتا

لوگ عمریں گُزار دیتے ہیں

پِھر بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا

میکشی، قتل، لغزشیں، سجدے

بند کمروں میں کیا نہیں ہوتا

Thursday, 29 April 2021

ٹوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے

 ٹوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے

جگمگاتے ہیں تِرے نقش قدم رات گئے

کیا بتائیں جو گزرتی ہے ہمارے دل پر

یاد آتے ہیں جب اپنوں کے ستم رات گئے

غرق ہو جاتی ہے جب نیند میں ساری دنیا

جاگ اُٹھتے ہیں ادیبوں کے قلم رات گئے

Thursday, 1 April 2021

آنکھوں سے محبت کے اشارے نکل آئے

 آنکھوں سے محبت کے اشارے نکل آئے

برسات کے موسم میں ستارے نکل آئے

تھا تجھ سے بچھڑ جانے کا احساس مگر اب

جینے کے لیے اور سہارے نکل آئے

میں نے تو یونہی ذکرِ وفا چھیڑ دیا تھا

بے ساختہ کیوں اشک تمہارے نکل آئے

Sunday, 21 March 2021

آوارگی نے دل کی عجب کام کر دیا

 آوارگی نے دل کی عجب کام کر دیا

خوابوں کو بوجھ نیندوں کو الزام کر دیا

کچھ آنسو اپنے پیار کی پہچان بن گئے

کچھ آنسوؤں نے پیار کو بدنام کر دیا

جس کو بچائے رکھنے میں اجداد بِک گئے

ہم نے اسی حویلی کو نیلام کر دیا

Thursday, 25 February 2021

حالات کیا یہ تیرے بچھڑنے سے ہو گئے

 حالات کیا یہ تیرے بچھڑنے سے ہو گئے

لگتا ہے جیسے ہم کسی میلے میں کھو گئے

آنکھیں برس گئیں تو سکوں دل کو مل گیا

بادل تو صرف سُوکھی زمینیں بھگو گئے

کتنی کہانیوں سے ملا زندگی کو حسن

کتنے فسانے وقت کی چادر میں سو گئے

Wednesday, 24 February 2021

گلشن میں یہ کمال تجھے دیکھ کر ہوا

 گلشن میں یہ کمال تجھے دیکھ کر ہُوا

پھولوں کا رنگ لال تجھے دیکھ کر ہوا

مدت کے بعد آج ملے ہیں تو جان من

دل کو بہت ملال تجھے دیکھ کر ہوا

آؤ ہم آج چاند کا قرضہ اتار دیں

تاروں کو یہ خیال تجھے دیکھ کر ہوا

Tuesday, 23 February 2021

دنیا سمجھ رہی ہے کہ پتھر اچھال آئے

 دنیا سمجھ رہی ہے کہ پتھر اچھال آئے

ہم اپنی پیاس جا کے سمندر میں ڈال آئے

جو پھانس چبھ رہی ہے دلوں میں وہ تو نکال

جو پاؤں میں چبھی تھی اسے ہم نکال آئے

کچھ اس طرح سے ذکر تباہی سنائیے

آنکھوں میں خون آئے نہ شیشے میں بال آئے

Sunday, 14 February 2021

ہیں ایک صف میں قلندر بھی میں بھی دنیا بھی

 ہیں ایک صف میں قلندر بھی میں بھی دنیا بھی

ستم زدہ بھی ستم گر بھی میں بھی دنیا بھی

خدا کے نام پہ کیا کیا فریب دیتے ہیں

زمانہ ساز یہ رہبر بھی میں بھی دنیا بھی

وہ ایک لمحہ کہ ہم سب لپٹ کے روئے تھے

اداس رات کا منظر بھی میں بھی دنیا بھی

Wednesday, 10 February 2021

اس شہر میں چلتی ہے ہوا اور طرح کی

 اس شہر میں چلتی ہے ہوا اور طرح کی

جرم اور طرح کے ہیں سزا اور طرح کی

اس بار تو پیمانہ اٹھایا بھی نہیں تھا

اس بار تھی رِندوں کی خطا اور طرح کی

ہم آنکھوں میں آنسو نہیں لاتے ہیں کہ ہم نے

پائی ہے وراثت میں ادا اور طرح کی