کتنے افسانوں کا ہوتا ہے جنم رات گئے
بول اٹھتے ہیں جو پتھر کے صنم رات گئے
ٹُوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے
جگمگاتے ہیں تِرے نقشِ قدم رات گئے
کیا بتائیں، جو گُزرتی ہے ہمارے دل پر
یاد آتے ہیں جو اپنوں کے ستم رات گئے
کتنے افسانوں کا ہوتا ہے جنم رات گئے
بول اٹھتے ہیں جو پتھر کے صنم رات گئے
ٹُوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے
جگمگاتے ہیں تِرے نقشِ قدم رات گئے
کیا بتائیں، جو گُزرتی ہے ہمارے دل پر
یاد آتے ہیں جو اپنوں کے ستم رات گئے
عشق ان کو عطا نہیں ہوتا
جن کے دل میں خدا نہیں ہوتا
لوگ عمریں گُزار دیتے ہیں
پِھر بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا
میکشی، قتل، لغزشیں، سجدے
بند کمروں میں کیا نہیں ہوتا
ٹوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے
جگمگاتے ہیں تِرے نقش قدم رات گئے
کیا بتائیں جو گزرتی ہے ہمارے دل پر
یاد آتے ہیں جب اپنوں کے ستم رات گئے
غرق ہو جاتی ہے جب نیند میں ساری دنیا
جاگ اُٹھتے ہیں ادیبوں کے قلم رات گئے
آنکھوں سے محبت کے اشارے نکل آئے
برسات کے موسم میں ستارے نکل آئے
تھا تجھ سے بچھڑ جانے کا احساس مگر اب
جینے کے لیے اور سہارے نکل آئے
میں نے تو یونہی ذکرِ وفا چھیڑ دیا تھا
بے ساختہ کیوں اشک تمہارے نکل آئے
آوارگی نے دل کی عجب کام کر دیا
خوابوں کو بوجھ نیندوں کو الزام کر دیا
کچھ آنسو اپنے پیار کی پہچان بن گئے
کچھ آنسوؤں نے پیار کو بدنام کر دیا
جس کو بچائے رکھنے میں اجداد بِک گئے
ہم نے اسی حویلی کو نیلام کر دیا
حالات کیا یہ تیرے بچھڑنے سے ہو گئے
لگتا ہے جیسے ہم کسی میلے میں کھو گئے
آنکھیں برس گئیں تو سکوں دل کو مل گیا
بادل تو صرف سُوکھی زمینیں بھگو گئے
کتنی کہانیوں سے ملا زندگی کو حسن
کتنے فسانے وقت کی چادر میں سو گئے
گلشن میں یہ کمال تجھے دیکھ کر ہُوا
پھولوں کا رنگ لال تجھے دیکھ کر ہوا
مدت کے بعد آج ملے ہیں تو جان من
دل کو بہت ملال تجھے دیکھ کر ہوا
آؤ ہم آج چاند کا قرضہ اتار دیں
تاروں کو یہ خیال تجھے دیکھ کر ہوا
دنیا سمجھ رہی ہے کہ پتھر اچھال آئے
ہم اپنی پیاس جا کے سمندر میں ڈال آئے
جو پھانس چبھ رہی ہے دلوں میں وہ تو نکال
جو پاؤں میں چبھی تھی اسے ہم نکال آئے
کچھ اس طرح سے ذکر تباہی سنائیے
آنکھوں میں خون آئے نہ شیشے میں بال آئے
ہیں ایک صف میں قلندر بھی میں بھی دنیا بھی
ستم زدہ بھی ستم گر بھی میں بھی دنیا بھی
خدا کے نام پہ کیا کیا فریب دیتے ہیں
زمانہ ساز یہ رہبر بھی میں بھی دنیا بھی
وہ ایک لمحہ کہ ہم سب لپٹ کے روئے تھے
اداس رات کا منظر بھی میں بھی دنیا بھی
اس شہر میں چلتی ہے ہوا اور طرح کی
جرم اور طرح کے ہیں سزا اور طرح کی
اس بار تو پیمانہ اٹھایا بھی نہیں تھا
اس بار تھی رِندوں کی خطا اور طرح کی
ہم آنکھوں میں آنسو نہیں لاتے ہیں کہ ہم نے
پائی ہے وراثت میں ادا اور طرح کی