Sunday, 14 February 2021

ہیں ایک صف میں قلندر بھی میں بھی دنیا بھی

 ہیں ایک صف میں قلندر بھی میں بھی دنیا بھی

ستم زدہ بھی ستم گر بھی میں بھی دنیا بھی

خدا کے نام پہ کیا کیا فریب دیتے ہیں

زمانہ ساز یہ رہبر بھی میں بھی دنیا بھی

وہ ایک لمحہ کہ ہم سب لپٹ کے روئے تھے

اداس رات کا منظر بھی میں بھی دنیا بھی

دعائیں مانگتے رہتے ہیں تجھ سے ملنے کی

اداس اداس مرا گھر بھی میں بھی دنیا بھی

سفر پہ نکلے تو اکثر بھٹک گئے جاناں

تمہاری یاد کے لشکر بھی میں بھی دنیا بھی

غزل کے سانچے میں ڈھلتے ہیں ٹوٹ جاتے ہیں

وفا کی راہ کے پتھر بھی میں بھی دنیا بھی

جدا جدا ہیں مگر پھر بھی ساتھ ہیں منصور

محبتوں کے سمندر بھی میں بھی دنیا بھی


منصور عثمانی

No comments:

Post a Comment