کمندِ حلقۂ گُفتار توڑ دی میں نے
کہ مہرِ دستِ قلمکار توڑ دی میں نے
روایتوں کو صلیبوں سے کر دیا آزاد
یہی رسن تو سرِ دار توڑ دی میں نے
یہ میرے ہاتھ ہیں اور بے شناخت اب بھی نہیں
یہ اور بات ہے، تلوار توڑ دی میں نے
کمندِ حلقۂ گُفتار توڑ دی میں نے
کہ مہرِ دستِ قلمکار توڑ دی میں نے
روایتوں کو صلیبوں سے کر دیا آزاد
یہی رسن تو سرِ دار توڑ دی میں نے
یہ میرے ہاتھ ہیں اور بے شناخت اب بھی نہیں
یہ اور بات ہے، تلوار توڑ دی میں نے
ذہن زندہ ہے مگر اپنے سوالات کے ساتھ
کتنے الجھاؤ ہیں زنجیر روایات کے ساتھ
کون دیکھے گا یہاں دن کے اجالوں کا ستم
یہ ستارے تو چلے جائیں گے سب رات کے ساتھ
جانے کس موڑ پہ منزل کا پتہ بھول گئے
ہم کہ چلتے ہی رہے گردش حالات کے ساتھ