Showing posts with label تنویر علوی. Show all posts
Showing posts with label تنویر علوی. Show all posts

Thursday, 16 September 2021

کمند حلقۂ گفتار توڑ دی میں نے

 کمندِ حلقۂ گُفتار توڑ دی میں نے

کہ مہرِ دستِ قلمکار توڑ دی میں نے

روایتوں کو صلیبوں سے کر دیا آزاد

یہی رسن تو سرِ دار توڑ دی میں نے

یہ میرے ہاتھ ہیں اور بے شناخت اب بھی نہیں

یہ اور بات ہے، تلوار توڑ دی میں نے

Friday, 8 January 2021

ذہن زندہ ہے مگر اپنے سوالات کے ساتھ

 ذہن زندہ ہے مگر اپنے سوالات کے ساتھ

کتنے الجھاؤ ہیں زنجیر روایات کے ساتھ

کون دیکھے گا یہاں دن کے اجالوں کا ستم

یہ ستارے تو چلے جائیں گے سب رات کے ساتھ

جانے کس موڑ پہ منزل کا پتہ بھول گئے

ہم کہ چلتے ہی رہے گردش حالات کے ساتھ

Friday, 28 August 2020

سربلندی تو صلیبوں کا مقدر ہے یہاں

سر بلندی تو صلیبوں کا مقدر ہے یہاں
دیکھ لو سامنے محراب ہے منبر ہے یہاں
جس کی تقدیر میں ٹوٹا ہوا آئینہ ہو
اس سے کیا کہیۓ کہ کون سکندر ہے یہاں
کوئی کانٹوں کا بھی دیتا ہے کسی کو تحفہ؟
دل میں رکھنے کا تو احساس کا نشتر ہے یہاں

عجیب شخص ہے پتھر سے پر بناتا ہے

عجیب شخص ہے پتھر سے پر بناتا ہے
دیارِ سنگ میں شیشہ کا گھر بناتا ہے
فضا کا بوجھ سمجھتا ہے چاند سورج کا
وہ گردنوں پہ سجانے کو سر بناتا ہے
جہاں سے قافلۂ وقت راہ بھولا تھا
انہیں سرابوں میں وہ رہگزر بناتا ہے

Thursday, 27 August 2020

ذہن زندہ ہے مگر اپنے سوالات کے ساتھ

ذہن زندہ ہے مگر اپنے سوالات کے ساتھ
کتنے الجھاؤ ہیں زنجیرِ روایات کے ساتھ
کون دیکھے گا یہاں دن کے اجالوں کا ستم
یہ ستارے تو چلے جائینگے سب رات کے ساتھ
جانے کس موڑ پہ منزل کا پتہ بھول گئے؟؟
ہم کہ چلتے ہی رہے گردشِ حالات کے ساتھ

Tuesday, 25 August 2020

وہی جو راہ کا پتھر تھا بے تراش بھی تھا

وہی جو راہ کا پتھر تھا، بے تراش بھی تھا 
وہ خستہ جاں ہی کبھی آئینہ قماش بھی تھا 
لہو کے پھول رگ جاں میں جس سے کھلتے تھے 
وہی تو شیشۂ دل تھا کہ پاش پاش بھی تھا
اٹھائے پھرتا تھا جس کو صلیب کی صورت
وہی وجود تو خود اس کی زندہ لاش بھی تھا

یہ کس سے کہیے کہ خوابوں کے ساتھ گزری ہے

یہ کس سے کہئے کہ خوابوں کے ساتھ گزری ہے
یہ زندگی جو کتابوں کے ساتھ گزری ہے
نظر نے اس کو چھوا بھی تو فاصلے رکھ کر
وہ موجِ گل جو حبابوں کے ساتھ گزری ہے
یہ حوصلہ بھی کہاں، آئینہ وہ دیکھ سکیں
وہ جن کی عمر نقابوں کے ساتھ گزری ہے

منزل ملے ملے نہ ملے راستہ ملے

منزل ملے، ملے نہ ملے، راستہ ملے
اس دشتِ آرزو میں کوئی نقشِ پا ملے
جب سوچ بھی بدل گئی لفظوں کے ساتھ ساتھ
ممکن نہ تھا کہ اپنا کوئی ہمنوا ملے
یہ اور بات ہے وہ چراغِ🪔 وفا نہ ہو
شعلہ ہی کوئی اب مِرے قدموں سے آ ملے

Tuesday, 27 October 2015

مل بھی جاتا جو کہیں آب بقا کیا کرتے

مل بھی جاتا جو کہیں آبِ بقا، کیا کرتے
زندگی خود بھی تھی جینے کی سزا، کیا کرتے
سرحدیں وہ نہ سہی، اپنی حدوں سے باہر
جو بھی ممکن تھا کِیا، اس کے سوا کیا کرتے
ہم سرابوں میں سدا پھول کھلاتے گزرے
یہ بھی تھا آبلہ پائی کا صِلا کیا کرتے

ابھی تو آنکھ میں نادیدہ خواب باقی ہیں

ابھی تو آنکھ میں نادیدہ خواب باقی ہیں
جو وقت لکھ نہیں پایا، وہ باب باقی ہیں
سزا جو اگلے صحیفوں میں تھی تمام ہوئی
مگر صحیفۂ دل💔 کے عذاب باقی ہیں
کرو گے جمع بھلا کیسے دل کے شیشوں کو
ابھی تو دشتِ فلک میں شہاب باقی ہیں

Tuesday, 29 September 2015

مشترک درد کے رشتوں میں وفا ہے بھی کہاں

مشترک درد کے رشتوں میں وفا ہے بھی کہاں
تم جسے ڈھونڈ رہے ہو بخدا ہے بھی کہاں
یا اخی" کہہ کے بھلا کون پکارے گا تمہیں"
دل کی دھڑکن کے سوا کوہِ ندا ہے بھی کہاں
کیسے اب اپنے خد و خال کو پہچانو گے
دل کے آئینہ میں پہلی سی جِلا ہے بھی کہاں

کیا ضروری ہے کوئی بے سبب آزار بھی ہو

کیا ضروری ہے کوئی بے سبب آزار بھی ہو
سنگ اپنے لیے شیشہ کا طلبگار بھی ہو
دلبری، حسن کا شیوہ ہے مگر کیا کیجئے
اب یہ لازم تو نہیں حسن وفادار بھی ہو
زخمِ جاں وقت کے کانٹوں سے بھی سِل سکتا ہے
کیا ضروری ہے کہ ریشم کا کوئی تار بھی ہو