عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب دل سے مُنسلک ہے جو پیمانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
سُنت کے راستے پہ ہوں اوڑھے ہوئے درودؐ
سب کچھ تو ہے نصیب جو سامانِ نعت ہے
ہر سانس میں ہے عشقِ نبیﷺ بولتا ہُوا
طیبہ کی سرزمین یہ فیضانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب دل سے مُنسلک ہے جو پیمانِ نعت ہے
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
سُنت کے راستے پہ ہوں اوڑھے ہوئے درودؐ
سب کچھ تو ہے نصیب جو سامانِ نعت ہے
ہر سانس میں ہے عشقِ نبیﷺ بولتا ہُوا
طیبہ کی سرزمین یہ فیضانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شکرِ خُدا کہ مجھ پہ یہ احسانِ نعت ہے
سر پر میرے بھی سایۂ دامانِ نعت ہے
حرف و سخن پہ دسترس اپنی جگہ مگر
دراصل وصفِ حبِ نبیؐ جانِ نعت ہے
فکر و شعور و حرف و ہُنر با وضو رہیں
تخلیق کے لیے یہی سامانِ نعت ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
وہاں مصطفٰےؐ کو بلایا گیا
جہاں اور کوئی نہ آیا گیا
مِرے دل کی خوش بختیاں دیکھیے
اسے نعتﷺ سے جگمگایا گیا
بصارت کو معراج حاصل ہوئی
نبی جیﷺ کا روضہ دکھایا گیا
بڑی ظالم گئے موسم کی اچھی یاد ہوتی ہے
انہی سوچوں میں ساری زندگی برباد ہوتی ہے
جنوں میں جب کبھی زخم ستم کچھ بھرنے لگتا ہے
تو پھر رسم ستم کوئی نئی ایجاد ہوتی ہے
فزوں ہوتا ہے فرقت میں وہ جس کو عشق کہتے ہیں
کہ بڑھتی ہے وہ روز و شب جو کوئی یاد ہوتی ہے
قدیم الفاظ میں معنی کی جدت مانگ لیتے ہیں
ہم اپنے رنگ سے کثرت میں وحدت مانگ لیتے ہیں
ضرورت ہو نہ ہو اس سے بھلا کیا فرق پڑتا ہے
جنہیں ہو مانگنا وہ حسب عادت مانگ لیتے ہیں
ہم ایسے سادہ لوگوں کی ازل سے ایک عادت ہے
کہ اپنے گھر سے بڑھ کر دل میں وسعت مانگ لیتے ہیں
یوں تو ہر سمت صداؤں کا جہاں بولتا ہے
پر جسے ہم نے پکارا وہ کہاں بولتا ہے
مامتا پھول سی کھل اٹھتی ہے اس روز کہ جب
اس کا بچہ اسے پہلی دفعہ ماں بولتا ہے
کچھ خبر لو کہ مِرے شہر پہ کیا گزری ہے
گل بداماں نہ کوئی شعلہ بجاں بولتا ہے
جی رہے ہیں اسی محبت میں
جو گنی جائے گی عبادت میں
دشمنوں ہر بھی ہے کرم انؐ کا
وہ ہیں بے مثل اپنی رحمت میں
نفرتوں کا وہاں گزر ہی نہیں
ہم ہیں جس بارگاہِ الفت میں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
وہاں مصطفٰیﷺ کو بلایا گیا
جہاں اور کوئی نہ آیا گیا
مرے دل کی خوش بختیاں دیکھیے
اسے نعتﷺ سے جگمگایا گیا
بصارت کو معراج حاصل ہوئی
نبیﷺ جی کا روضہ دکھایا گیا
قرب انوارِ مدینہ سے چمکتا ہُوا دل
چاند تاروں سے سوا خود کو سمجھتا ہوا دل
آج چہکا ہے مدینے کے کبوتر کی طرح
گنبدِ سبز کے اطراف میں اڑتا ہوا دل
اپنی قسمت پہ بہت ناز کیا کرتا ہے
حرمِ پاک کے اک طاق میں رکھا ہوا دل
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہم زمانے میں پھرے دل کو حرم میں رکھا
حرمِ پاک کو اس دیدۂ نم میں رکھا
جو بھی لکھا ہے وہ انوار صفت لکھا ہے
اسمِ احمدﷺ نے یہ اعجاز قلم میں رکھا
دل کو دنیا کے جھمیلوں میں الجھنے نہ دیا
اس کو بس جستجوئے باغِ ارم میں رکھا
جو چشمِ تر کو ہی کافی خیال کرتے ہیں
وہ عرضِ حال اضافی خیال کرتے ہیں
کوئی بھی کام جو ثابت نہیں محمدؐ سے
اسے وفا کے منافی خیال کرتے ہیں
یہ پیروی ہے کہ ہم بھوک رکھ کے کھاتے ہوئے
نبیﷺ کی بات کو شافی خیال کرتے ہیں
ہمیشہ ساتھ رہتی ہے اسی انعام کی خوشبو
ہمارے ہادئ برحقؐ کے پیارے نام کی خوشبو
تصور باندھتے ہیں ساقئ کوثر کا محشر میں
خیالوں میں ہے کوثر کے نرالے جام کی خوشبو
کڑے وقتوں میں بن کے حوصلہ آتی ہے وہ رحمت
ہمیں گھیرے میں رکھتی ہے کسی اکرام کی خوشبو
دونوں کو آ سکیں نہ نبھانی محبتیں
اب پڑ رہی ہیں ہم کو بھُلانی محبتیں
سب سر بسر فریب ہیں کیا ان کا اعتبار
یہ پیار، حسن، عشق، جوانی محبتیں
نفرت کے واسطے کبھی فرصت نہیں ملی
اپنی ہے مختصر سی کہانی محبتیں