دونوں کو آ سکیں نہ نبھانی محبتیں
اب پڑ رہی ہیں ہم کو بھُلانی محبتیں
سب سر بسر فریب ہیں کیا ان کا اعتبار
یہ پیار، حسن، عشق، جوانی محبتیں
نفرت کے واسطے کبھی فرصت نہیں ملی
اپنی ہے مختصر سی کہانی محبتیں
جانے وہ آج کون سے رستے سے آئے گھر
ہر موڑ ہر گلی میں بچھانی محبتیں
کِن کِن رفاقتوں کے دئیے واسطے مگر
اس کو نہ یاد آئیں پرانی محبتیں
گُزری رُتوں کے زخم ہی اب تک بھرے نہیں
پھر اور کیا کسی سے بڑھانی محبتیں
یا دل کی حالتوں کا بیاں سب کے سامنے
یا اپنے آپ سے بھی چھُپانی محبتیں
نفرت کے واسطے کبھی فرصت نہیں ملی
اپنی ہے مختصر سی کہانی محبتیں
نورین طلعت عروبہ
No comments:
Post a Comment