Showing posts with label زاہدہ راجی. Show all posts
Showing posts with label زاہدہ راجی. Show all posts

Sunday, 28 April 2024

نگاہ و دل میں کوئی راہ و در نہیں رہتا

 نگاہ و دل میں کوئی راہ و در نہیں رہتا 

جو معتبر تھا اگر معتبر نہیں رہتا

یہ کون سارے جہاں میں بھٹکتا پھرتا ہے

کہیں رہے تو رہے، اپنے گھر نہیں رہتا

جو دل سے دیرپا ہوتا نہ درد کا رشتہ

تو میرے حرفِ دُعا میں اثر نہیں رہتا 

Thursday, 4 April 2024

واپسی کا سفر میں کہ ابہام کے راستے سے پرے

 واپسی کا سفر


میں کہ ابہام کے راستے سے پرے 

ڈھونڈتی تھی جسے 

وہ یقیں، بے یقینی کے مسند پہ بیٹھا ہوا

کوئی ابہام تھا

گریہ سچ ہے تو کیوں 

تیرگی میں مجھے روشنی کا گماں ہی پلٹنے نہ دے 

Thursday, 14 March 2024

سیاست کر لو لاشوں پر

 سیاست کر لو لاشوں پر​

کہ ان میں کوئی بھی لاشہ​

نہ بھائی ہے تمہارا​

اور نہ بیٹا ہے نہ بیٹی ہے​

نہ ان سے درد کا بندھن​

نہ کوئی خون کا رشتہ

Saturday, 10 February 2024

دوستی مشکل میں تھی اور دشمنی ممکن نہ تھی

 دوستی مُشکل میں تھی اور دُشمنی مُمکن نہ تھی

زندگی تجھ سے مِری اب دل لگی ممکن نہ تھی

جان لیتے گر، دیارِ عشق میں رکھتے قدم؟

جس گُزرگاہ پر کبھی آسُودگی ممکن نہ تھی

اک فقط سادہ دلی نے حشر تک پہنچا دیا

بے حِسوں سے بھی ہماری بے رُخی ممکن نہ تھی

Friday, 2 February 2024

لبوں سے لفظ چھینو گے تو آخر کون بولے گا

 اِستفسار


مِرے اندر ٹٹولو گے

پلندہ دل کا کھولو گے

تو ان آنکھوں کے رستے سے

خموشی چیخ اُٹھے گی

فقط اک بات پُوچھے گی

Thursday, 1 February 2024

کھو گئے ہو تو پھر سے لوٹ آؤ

 لوٹ آؤ 


اپنے احساس کے سمندر میں

کھو گئے ہو تو پھر سے لوٹ آؤ

اس سے پہلے کہ اک بھنور تم کو

اپنی گہرائیوں میں لے ڈُوبے

لوٹ جاؤ تم اپنے ساحل پر

کہ جہاں پر نجانے کتنے اور

Wednesday, 18 November 2020

تجھ کو مجھ سے ہے کیا تیرا کھاتہ الگ میرا

تجھ کو مجھ سے ہے کیا


میں کہ دریا نہیں

میں کہ صحرا نہیں

میں نہ منزل، نہ رستہ نہ راہِ سفر

تجھ کو مجھ سے ہے کیا؟

میں بُتوں کی پرستش کی قائل نہیں

تجھ کو دعویٰ خدا کا ہے تو رہے