نگاہ و دل میں کوئی راہ و در نہیں رہتا
جو معتبر تھا اگر معتبر نہیں رہتا
یہ کون سارے جہاں میں بھٹکتا پھرتا ہے
کہیں رہے تو رہے، اپنے گھر نہیں رہتا
جو دل سے دیرپا ہوتا نہ درد کا رشتہ
تو میرے حرفِ دُعا میں اثر نہیں رہتا
نگاہ و دل میں کوئی راہ و در نہیں رہتا
جو معتبر تھا اگر معتبر نہیں رہتا
یہ کون سارے جہاں میں بھٹکتا پھرتا ہے
کہیں رہے تو رہے، اپنے گھر نہیں رہتا
جو دل سے دیرپا ہوتا نہ درد کا رشتہ
تو میرے حرفِ دُعا میں اثر نہیں رہتا
واپسی کا سفر
میں کہ ابہام کے راستے سے پرے
ڈھونڈتی تھی جسے
وہ یقیں، بے یقینی کے مسند پہ بیٹھا ہوا
کوئی ابہام تھا
گریہ سچ ہے تو کیوں
تیرگی میں مجھے روشنی کا گماں ہی پلٹنے نہ دے
سیاست کر لو لاشوں پر
کہ ان میں کوئی بھی لاشہ
نہ بھائی ہے تمہارا
اور نہ بیٹا ہے نہ بیٹی ہے
نہ ان سے درد کا بندھن
نہ کوئی خون کا رشتہ
دوستی مُشکل میں تھی اور دُشمنی مُمکن نہ تھی
زندگی تجھ سے مِری اب دل لگی ممکن نہ تھی
جان لیتے گر، دیارِ عشق میں رکھتے قدم؟
جس گُزرگاہ پر کبھی آسُودگی ممکن نہ تھی
اک فقط سادہ دلی نے حشر تک پہنچا دیا
بے حِسوں سے بھی ہماری بے رُخی ممکن نہ تھی
اِستفسار
مِرے اندر ٹٹولو گے
پلندہ دل کا کھولو گے
تو ان آنکھوں کے رستے سے
خموشی چیخ اُٹھے گی
فقط اک بات پُوچھے گی
لوٹ آؤ
اپنے احساس کے سمندر میں
کھو گئے ہو تو پھر سے لوٹ آؤ
اس سے پہلے کہ اک بھنور تم کو
اپنی گہرائیوں میں لے ڈُوبے
لوٹ جاؤ تم اپنے ساحل پر
کہ جہاں پر نجانے کتنے اور
تجھ کو مجھ سے ہے کیا
میں کہ دریا نہیں
میں کہ صحرا نہیں
میں نہ منزل، نہ رستہ نہ راہِ سفر
تجھ کو مجھ سے ہے کیا؟
میں بُتوں کی پرستش کی قائل نہیں
تجھ کو دعویٰ خدا کا ہے تو رہے