یاد دہانی
آپ اچھے ہیں اس لیے اکثر
سب پہ اچھا گمان رکھتے ہیں
بات لیکن یہ ذہن میں رکھیں
سب اچانک پلٹ بھی سکتا ہے
وقت پڑنے پہ خوش گمانی کا
تخت کوئی الٹ بھی سکتا ہے
یاد دہانی
آپ اچھے ہیں اس لیے اکثر
سب پہ اچھا گمان رکھتے ہیں
بات لیکن یہ ذہن میں رکھیں
سب اچانک پلٹ بھی سکتا ہے
وقت پڑنے پہ خوش گمانی کا
تخت کوئی الٹ بھی سکتا ہے
بہت سے راز ہیں اس میں جو میں پوشیدہ رکھتا ہوں
کسی موقعے پہ جو لہجے کو میں سنجیدہ رکھتا ہوں
مجھے لوگوں کے جھمگٹ سے ذرا الجھن سی ہوتی ہے
میں اپنے دوست دشمن سارے چیدہ چیدہ رکھتا ہوں
مخالف بھی مِرے یہ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں
جہاں جاؤں وہاں سب ہی کو میں گرویدہ رکھتا ہوں
اک نیا شوق پال رکھا ہے
خود کو مشکل میں ڈال رکھا ہے
آرزو کا جو ایک خانہ ہے
اس میں تیرا سوال رکھا ہے
سب کے چہرے بگاڑ دیتا ہے
دل کے شیشے میں بال رکھا ہے
اطمینان
سیاست ہے ایسا حمام جس میں
جان کر خود کو مستور ہر ایک ننگا
مطمئن ہے کہ باقی ہیں سارے برہنہ یہاں
راحیل احمد
جو تیور ہیں موسم کے، تن جانتا ہے
مگر جو گزرتی ہے، من جانتا ہے
یقیناً ہے واقف وہ جینے کے گر سے
جو خود میں ہی رہنا مگن جانتا ہے
اُسے کیا پڑی ہے مشقت کرے وہ
جو باتیں بنانے کا فن جانتا ہے