Showing posts with label راحیل احمد. Show all posts
Showing posts with label راحیل احمد. Show all posts

Sunday, 25 September 2022

تخت کوئی الٹ بھی سکتا ہے

 یاد دہانی


آپ اچھے ہیں اس لیے اکثر

سب پہ اچھا گمان رکھتے ہیں

بات لیکن یہ ذہن میں رکھیں

سب اچانک پلٹ بھی سکتا ہے

وقت پڑنے پہ خوش گمانی کا

تخت کوئی الٹ بھی سکتا ہے

Wednesday, 7 September 2022

بہت سے راز ہیں اس میں جو میں پوشیدہ رکھتا ہوں

 بہت سے راز ہیں اس میں جو میں پوشیدہ رکھتا ہوں

کسی موقعے پہ جو لہجے کو میں سنجیدہ رکھتا ہوں

مجھے لوگوں کے جھمگٹ سے ذرا الجھن سی ہوتی ہے

میں اپنے دوست دشمن سارے چیدہ چیدہ رکھتا ہوں

مخالف بھی مِرے یہ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں

جہاں جاؤں وہاں سب ہی کو میں گرویدہ رکھتا ہوں

Saturday, 3 September 2022

اک نیا شوق پال رکھا ہے

 اک نیا شوق پال رکھا ہے

خود کو مشکل میں ڈال رکھا ہے

آرزو کا جو ایک خانہ ہے

اس میں تیرا سوال رکھا ہے

سب کے چہرے بگاڑ دیتا ہے

دل کے شیشے میں بال رکھا ہے

Tuesday, 26 July 2022

سیاست ہے ایسا حمام جس میں

 اطمینان


سیاست ہے ایسا حمام جس میں

جان کر خود کو مستور ہر ایک ننگا

مطمئن ہے کہ باقی ہیں سارے برہنہ یہاں


راحیل احمد

Friday, 28 January 2022

جو تیور ہیں موسم کے تن جانتا ہے

 جو تیور ہیں موسم کے، تن جانتا ہے

مگر جو گزرتی ہے، من جانتا ہے

یقیناً ہے واقف وہ جینے کے گر سے

جو خود میں ہی رہنا مگن جانتا ہے

اُسے کیا پڑی ہے مشقت کرے وہ

جو باتیں بنانے کا فن جانتا ہے