بجز وہم و گماں کچھ بھی نہیں ہے
ہمارے درمیاں کچھ بھی نہیں ہے
جھلک ہم آرزو کی دیکھتے ہیں
حقیقت میں یہاں کچھ بھی نہیں ہے
ہمیں بے چین کیے رکھتا ہے آخر
اگر سوز نہاں کچھ بھی نہیں ہے
دل اک تاریک نگری ہے اور اس میں
برائے مہوشاں کچھ بھی نہیں ہے
بذات خود فسانہ ہے سفر، سو
فریب ہمرہاں کچھ بھی نہیں ہے
سوائے رہبروں اور رہزنوں کے
متاع کارواں کچھ بھی نہیں ہے
مِری پرواز کی وُسعت کے آگے
تمہارا آسماں کچھ بھی نہیں ہے
نمرہ شکیل
No comments:
Post a Comment