ہو گئی جو خطا خُدا بخشے
کر رہا ہوں دعا خدا بخشے
جس نے کی بے رُخی خدا پوچھے
کر گیا جو وفا خدا بخشے
وہ نہیں بخشے جو منافق تھے
جن میں تھی کچھ حیا خدا بخشے
چین لُوٹا ہے تم نے اس دل کا
پھر بھی اے دلرُبا خدا بخشے
اور کیا چاہیے فقیروں سے
جا تُجھے کہہ دیا خدا بخشے
رحم کرنا اسی کی عادت ہے
کر بھلا، ہو بھلا خدا بخشے
بات کہہ دی ہے لاکھ کی گوہر
جو بھی سُن کر گیا خدا بخشے
گوہر فرید
No comments:
Post a Comment