مانگتے ہیں تو ذرا سا تو نہیں مانگتے ہیں
اے سمندر! تِرا دریا تو نہیں مانگتے ہیں
کیا خبر دُھوپ نہ دے جائے وہ خیرات کے ساتھ
لوگ دِیوار سے سایہ تو نہیں مانگتے ہیں
وحشتیں بانٹتے پھرتے ہیں تِری گلیوں میں
بدلے میں کوئی سِکہ تو نہیں مانگتے ہیں
ہم سے پہلے ہی تُو دِیدار کو چل پڑتی ہے
چشمِ بے تاب! ہم اتنا تو نہیں مانگتے ہیں
اس قدر جِھڑکیاں تم دیتے ہو کس حُجّت میں
ہم تِرے نام کا چندہ تو نہیں مانگتے ہیں
نعیم اللہ انمول
No comments:
Post a Comment