Showing posts with label منظور ثاقب. Show all posts
Showing posts with label منظور ثاقب. Show all posts

Wednesday, 4 January 2023

ہے یہ پیری بھی اک خوشی مجھ میں

 ہے یہ پیری بھی اک خوشی مجھ میں

لوٹ آئی ہے کم سِنی مجھ میں

بات شیریں سخن کی کرتا ہوں

گُھلتی جاتی ہے چاشنی مجھ میں

تیری یادوں کے ساتھ آتی ہے

تیرے قدموں کی چاپ سی مجھ میں

Saturday, 26 February 2022

تو مجھے آن ملے گا یہ یقیں تھا مجھ کو

 تُو مجھے آن ملے گا یہ یقیں تھا مجھ کو

تیری آمد کا سفر کتنا حسیں تھا مجھ کو

خیر ہو تیری لبوں پر یہ دعا تھی ہر دم

راہ میں آ ئے کبھی تجھ کو نہ کوئی بھی غم

تیری خوشیوں کو مقدم ہی رکھا ہے میں نے

تیری خاطر یہ کڑا وقت سہا ہے میں نے

Monday, 6 September 2021

برگد کی چھاؤں میں بیٹھا اک بے نام فقیر

 برگد کی چھاؤں میں بیٹھا اک بے نام فقیر

اپنے سر لے لیتا ہے ہر اک الزام فقیر

سوچ نگر میں گلیوں گلیوں گھومے وہ دن رات

چِنتا کے ساگر میں ڈوبا صبح و شام فقیر

سوچ سمندر میں جب اُترے موتی ڈھونڈ کے لائے

رکھتا ہے پیاسوں کی خاطر بھر کے جام فقیر

Saturday, 4 September 2021

عشق رکھتے ہو گر اڑان کے ساتھ

عشق رکھتے ہو گر اڑان کے ساتھ

ربط ٹوٹے نہ آسمان کے ساتھ

تم کو ہمسائے بھی خریدنا ہیں

ایک بکتے ہوئے مکان کے ساتھ

کتنا اچھا ہو دسترس میں جو ہوں

یہ ہوائیں بھی بادبان کے ساتھ

Thursday, 2 September 2021

بات رہبر سے پوچھ لیتے ہیں

 بات رہبر سے پوچھ لیتے ہیں

اپنے اندر سے پوچھ لیتے ہیں

قتل پر دُکھ تجھے بھی ہوتا ہے

نوکِ خنجر سے پوچھ لیتے ہیں

بُت سے اُلفت ہے یا تجارت ہے

ایک بُت گر سے پوچھ لیتے ہیں

Tuesday, 31 August 2021

اس نے موہوم سے کچھ عیب اچھالے میرے

 اس نے موہوم سے کچھ عیب اچھالے میرے

کر سکا پر نہ وہ کمزور حوالے میرے

کون ہوتا ہے جدا اپنے کسی محسن سے

اب کہاں جائیں گے جو درد ہیں پالے میرے

عمر بھر کی یہ کمائی ہیں اگرچہ میری

آئے اور آ کے کوئی خواب چرا لے میرے

قدم قدم ہے نیا امتحان میرے ساتھ

 قدم قدم ہے نیا امتحان میرے ساتھ

جو چل سکو تو چلو میری جان میرے ساتھ

بلندیوں پہ اکھڑنے لگے نہ سانس کہیں

سمجھ کے سوچ کے بھرنا اڑان میرے ساتھ

میرے خیال کی دنیا نئی ہے ہر لمحہ

بہر نفس ہے کوئی فکان میرے ساتھ

Monday, 30 August 2021

پیچ کھاتی ہے بہت پاگل ہوا

 پیچ کھاتی ہے بہت پاگل ہوا

دیکھتی ہے جب کوئی جلتا دِیا

سنگِ مر کی سِلوں کو کیا خبر

بارش اور مٹی کا یہ رشتہ ہے کیا

پہلے بھی وہ سر نہ تھا کچھ کم بلند

کٹ گیا تو اور اونچا ہوگیا

Friday, 27 August 2021

لباس امن میں شاہیں کو فاختہ نہ سمجھ

 لباسِ امن میں شاہیں کو فاختہ نہ سمجھ

شریف زادوں کو اتنا بھی نا رسا نہ سمجھ

جو حرفِ حق تھا تِرے منہ پہ برملا ہے کہا

مِری بلا سے اسے حرفِ باغیانہ سمجھ

تِری شکست میں ممکن ہے تیرا حصہ ہو

تُو اپنے آپ کو اس درجہ بے خطا نہ سمجھ