ہے یہ پیری بھی اک خوشی مجھ میں
لوٹ آئی ہے کم سِنی مجھ میں
بات شیریں سخن کی کرتا ہوں
گُھلتی جاتی ہے چاشنی مجھ میں
تیری یادوں کے ساتھ آتی ہے
تیرے قدموں کی چاپ سی مجھ میں
ہے یہ پیری بھی اک خوشی مجھ میں
لوٹ آئی ہے کم سِنی مجھ میں
بات شیریں سخن کی کرتا ہوں
گُھلتی جاتی ہے چاشنی مجھ میں
تیری یادوں کے ساتھ آتی ہے
تیرے قدموں کی چاپ سی مجھ میں
تُو مجھے آن ملے گا یہ یقیں تھا مجھ کو
تیری آمد کا سفر کتنا حسیں تھا مجھ کو
خیر ہو تیری لبوں پر یہ دعا تھی ہر دم
راہ میں آ ئے کبھی تجھ کو نہ کوئی بھی غم
تیری خوشیوں کو مقدم ہی رکھا ہے میں نے
تیری خاطر یہ کڑا وقت سہا ہے میں نے
برگد کی چھاؤں میں بیٹھا اک بے نام فقیر
اپنے سر لے لیتا ہے ہر اک الزام فقیر
سوچ نگر میں گلیوں گلیوں گھومے وہ دن رات
چِنتا کے ساگر میں ڈوبا صبح و شام فقیر
سوچ سمندر میں جب اُترے موتی ڈھونڈ کے لائے
رکھتا ہے پیاسوں کی خاطر بھر کے جام فقیر
عشق رکھتے ہو گر اڑان کے ساتھ
ربط ٹوٹے نہ آسمان کے ساتھ
تم کو ہمسائے بھی خریدنا ہیں
ایک بکتے ہوئے مکان کے ساتھ
کتنا اچھا ہو دسترس میں جو ہوں
یہ ہوائیں بھی بادبان کے ساتھ
بات رہبر سے پوچھ لیتے ہیں
اپنے اندر سے پوچھ لیتے ہیں
قتل پر دُکھ تجھے بھی ہوتا ہے
نوکِ خنجر سے پوچھ لیتے ہیں
بُت سے اُلفت ہے یا تجارت ہے
ایک بُت گر سے پوچھ لیتے ہیں
اس نے موہوم سے کچھ عیب اچھالے میرے
کر سکا پر نہ وہ کمزور حوالے میرے
کون ہوتا ہے جدا اپنے کسی محسن سے
اب کہاں جائیں گے جو درد ہیں پالے میرے
عمر بھر کی یہ کمائی ہیں اگرچہ میری
آئے اور آ کے کوئی خواب چرا لے میرے
قدم قدم ہے نیا امتحان میرے ساتھ
جو چل سکو تو چلو میری جان میرے ساتھ
بلندیوں پہ اکھڑنے لگے نہ سانس کہیں
سمجھ کے سوچ کے بھرنا اڑان میرے ساتھ
میرے خیال کی دنیا نئی ہے ہر لمحہ
بہر نفس ہے کوئی فکان میرے ساتھ
پیچ کھاتی ہے بہت پاگل ہوا
دیکھتی ہے جب کوئی جلتا دِیا
سنگِ مر کی سِلوں کو کیا خبر
بارش اور مٹی کا یہ رشتہ ہے کیا
پہلے بھی وہ سر نہ تھا کچھ کم بلند
کٹ گیا تو اور اونچا ہوگیا
لباسِ امن میں شاہیں کو فاختہ نہ سمجھ
شریف زادوں کو اتنا بھی نا رسا نہ سمجھ
جو حرفِ حق تھا تِرے منہ پہ برملا ہے کہا
مِری بلا سے اسے حرفِ باغیانہ سمجھ
تِری شکست میں ممکن ہے تیرا حصہ ہو
تُو اپنے آپ کو اس درجہ بے خطا نہ سمجھ