عشق رکھتے ہو گر اڑان کے ساتھ
ربط ٹوٹے نہ آسمان کے ساتھ
تم کو ہمسائے بھی خریدنا ہیں
ایک بکتے ہوئے مکان کے ساتھ
کتنا اچھا ہو دسترس میں جو ہوں
یہ ہوائیں بھی بادبان کے ساتھ
تُو مجھے چھوڑ کے گیا جب سے
میں بھی بکھرا ہوا ہوں دھیان کے ساتھ
فاختہ ہے سفید پرچم پر
ہم کھڑے ہیں اسی نشان کے ساتھ
منظور ثاقب
No comments:
Post a Comment