Showing posts with label سدرشن فاکر. Show all posts
Showing posts with label سدرشن فاکر. Show all posts

Tuesday, 17 August 2021

جس موڑ پر کیے تھے ہم نے قرار برسوں

 جس موڑ پر کیے تھے ہم نے قرار برسوں

اس سے لپٹ کے روئے دیوانہ وار برسوں

تم گلسـتان سے آئے، ذکرِ خزاں ہی لائے 

ہم نے قفس میں دیکھی فصلِ بہار برسوں

ہوتی رہی ہے یوں تو، برسات آنسوؤں کی

اٹھتے رہے ہیں پھر بھی، دل سے غبار برسوں

Monday, 28 March 2016

اہل الفت کے حوالوں پہ ہنسی آتی ہے

اہلِ الفت کے حوالوں پہ ہنسی آتی ہے 
ليلیٰ مجنوں کی مثالوں پہ ہنسی آتی ہے 
جب بھی تکميلِ محبت کا خيال آتا ہے 
مجھ کو اپنے ہی خيالوں پہ ہنسی آتی ہے 
لوگ اپنے لیے اوروں ميں وفا ڈھونڈتے ہيں 
ان وفا ڈھونڈنے والوں پہ ہنسی آتی ہے 

Wednesday, 6 January 2016

الفت کا جب کسی نے لیا نام تو رو پڑے

الفت کا جب کسی نے لیا نام تو رو پڑے
اپنی وفا کا سوچ کے انجام رو پڑے
ہر شام یہ سوال محبت سے کیا ملا
ہر شام یہ جواب کہ ہر شام رو پڑے​
راہِ وفا میں ہم کو خوشی کی تلاش تھی
دو گام ہی چلے تھے کہ ہر گام رو پڑے

اگر ہم کہیں اور وہ مسکرا دیں

اگر ہم کہیں اور وہ مسکرا دیں 
ہم ان کے لیے زندگی لٹا دیں 
ہر اک موڑ پر ہم غموں کو سزا دیں 
چلو زندگی کو محبت بنا دیں 
اگر خود کو بھولے تو کچھ بھی نہ بھولے
کہ چاہت میں ان کی خدا کو بھلا دیں

کچھ تو دنیا کی عنایت نے دل توڑ دیا

کچھ تو دنیا کی عنایت نے دل توڑ دیا 
اور کچھ تلخئ حالات نے دل توڑ دیا 
ہم تو سمجھے تھے کے برسات میں برسے گی شراب 
آئی برسات تو برسات نے دل توڑ دیا 
دل تو روتا رہے اور آنکھ سے آنسو نہ بہیں 
عشق کی ایسی روایت نے دل توڑ دیا 

شاید میں زندگی کی سحر لے کے آ گیا

شاید میں زندگی کی سحر لے کے آ گیا 
قاتل کو آج اپنے ہی گھر لے کے آ گیا  
تا عمر ڈھونڈتا رہا منزل میں عشق کی 
انجام یہ کہ گردِ سفر لے کے آ گیا 
نشتر ہے میرے ہاتھ میں کاندھوں پہ میکدہ 
لو میں علاجِ دردِ جگر لے کے آ گیا 

Tuesday, 5 January 2016

اس موڑ سے شروع کریں پھر یہ زندگی

اس موڑ سے شروع کریں پھر یہ زندگی
ہر شے جہاں حسِین تھی ہم تم تھے اجنبی
اس موڑ سے شروع کریں پھر یہ زندگی
ہر شے جہاں حسِین تھی ہم تم تھے اجنبی

لے کر چلے تھے ہم جنہیں جنت کے خواب تھے
پھولوں کے خواب تھے وہ محبت کے خواب تھے
لیکن کہاں ان میں وہ پہلی سی دلکشی

پتھر کے خدا پتھر کے صنم پتھر کے ہی انساں پائے ہیں

پتھر کے خدا پتھر کے صنم پتھر کے ہی انساں پائے ہیں
تم شہرِ محبت کہتے ہو، ہم جان بچا کر آئے ہیں
بت خانہ سمجھتے ہو جس کو، پوچھو نہ وہاں کیا حالت ہے 
ہم لوگ وہیں سے لوٹے ہیں، بس شکر کرو لوٹ آئے ہیں
ہم سوچ رہے ہیں مدت سے، اب عمر گزاریں بھی تو کہاں
صحرا میں خوشی کے پھول نہیں، شہروں میں غموں کے سائے ہیں

غم بڑھے آتے ہیں قاتل کی نگاہوں کی طرح

غم بڑھے آتے ہیں قاتل کی نگاہوں کی طرح
تم چھپا لو مجھے اے دوست گناہوں کی طرح
اپنی نظروں میں گنہ گار نہ ہوتے کیوں کر
دل ہی دشمن ہے مخالف کے گواہوں کی طرح
ہر طرف زیست کی راہوں میں کڑی دھوپ ہے دوست
بس تیری یاد کے سائے ہیں پناہوں کی طرح

آج کے دور میں اے دوست یہ منظر کیوں ہے

آج کے دور میں اے دوست یہ منظر کیوں ہے 
زخم ہر سر پہ، ہر ایک ہاتھ میں پتھر کیوں ہے
جب حقیقت ہے کہ ہر ذرے میں تُو رہتا ہے
پھر زمین پر کہیں مسجد، کہیں مندر کیوں ہے
اپنا انجام تو معلوم ہے سب کو، پھر بھی
اپنی نظروں میں ہر انسان سکندر کیوں ہے

Monday, 4 January 2016

دنیا سے وفا کر کے صلہ ڈھونڈ رہے ہیں

دنیا سے وفا کر کے صلہ ڈھونڈ رہے ہیں
ہم لوگ بھی ناداں ہیں یہ کیا ڈھونڈ رہے ہیں
کچھ دیر ٹھہر جائیے اے بندۂ انصاف
ہم اپنے گناہوں میں خطا ڈھونڈ رہے ہیں
یہ بھی تو سزا ہے کہ گرفتارِ وفا ہوں
کیوں لوگ محبت کی سزا ڈھونڈ رہے ہیں

کسی رنجش کو ہوا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی

کسی رنجش کو ہوا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی
مجھ کو احساس دلا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی
میرے رکنے سے مِری سانسیں بھی رک جائیں گی
فاصلے اور بڑھا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی
زہر پینے کی تو عادت تھی زمانے والو 
اب کوئی اور دوا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی

مری زباں سے مری داستاں سنو تو سہی

مِری زباں سے مِری داستاں سنو تو سہی
یقیں کرو نہ کرو مہرباں، سنو تو سہی
چلو یہ مان لیا مجرمِ محبت ہیں
ہمارے جرم کا ہم سے بیاں سنو تو سہی
بنو گے دوست مِرے تم بھی دشمنو اک دِن
مِری حیات کی آہ و فغاں سنو تو سہی

سامنے ہے جو اسے لوگ برا کہتے ہیں

سامنے ہے جو اسے لوگ برا کہتے ہیں 
جس کو دیکھا ہی نہیں اس کو خدا کہتے ہیں
زندگی کو بھی صِلہ کہتے ہیں کہنے والے
جینے والوں کو گناہوں کی سزا کہتے ہیں
فاصلے عمر کے کچھ اور بڑھا دیتی ہے 
جانے کیوں لوگ اسے پھر بھی دوا کہتے ہیں

Saturday, 2 January 2016

زندگی تجھ کو جیا ہے کوئی افسوس نہیں

زندگی تجھ کو جیا ہے کوئی افسوس نہیں
زہر خود میں پیا ہے، کوئی افسوس نہیں
میں نے مجرم کو بھی مجرم نہ کہا دنیا میں 
بس یہی جرم کیا ہے، کوئی افسوس نہیں
میری قسمت میں جو لکھے تھے انہی کانٹوں سے
دل کے زخموں کو سیا ہے کوئی افسوس نہیں

فلسفے عشق میں پیش آئے سوالوں کی طرح

فلسفے عشق میں پیش آئے سوالوں کی طرح 
ہم پریشاں ہی رہے اپنے خیالوں کی طرح
شیشہ گر بیٹھے رہے ذکرِ مسیحا لے کر 
اور ہم ٹوٹ گئے کانچ کے پیالوں کی طرح
جب بھی انجامِ محبت نے پکارا خود کو 
وقت نے پیش کیا ہم کو مثالوں کی طرح

میرے دکھ کی کوئی دوا نہ کرو

میرے دکھ کی کوئی دوا نہ کرو 
مجھ کو مجھ سے ابھی جدا نہ کرو
ناخدا کو خدا کہا ہے تو پھر 
ڈوب جاؤ، خدا خدا نہ کرو
یہ سکھایا ہے دوستی نے ہمیں 
دوست بن کر کبھی وفا نہ کرو

کچھ تو دنیا کی عنایات نے دل توڑ دیا

کچھ تو دنیا کی عنایات نے دل توڑ دیا
اور کچھ تلخئ حالات نے دل توڑ دیا
ہم تو سمجھے تھے کہ برسات میں برسے گی شراب
آئی برسات تو برسات نے دل توڑ دیا
دل تو روتا رہے اور آنکھ سے آنسو نہ بہے
عشق کی ایسی روایات نے دل توڑ دیا

Monday, 28 December 2015

عشق میں غیرت جذبات نے رونے نہ دیا

عشق میں غیرتِ جذبات نے رونے نہ دیا
ورنہ کیا بات تھی کس بات نے رونے نہ دیا
آپ کہتے تھے کہ رونے سے نہ بدلیں گے نصیب
عمر بھر آپ کی اس بات نے رونے نہ دیا
رونے والوں سے کہو ان کا بھی رونا رو لیں
جن کو مجبورئ حالات نے رونے نہ دیا

دل کی دیوار و در پہ کیا دیکھا

دل کی دیوار و در پہ کیا دیکھا
بس تِرا نام ہی لکھا دیکھا
تیری آنکھوں میں ہم نے کیا دیکھا
کبھی قاتل، کبھی خدا دیکھا
اپنی صورت لگی پرائی سی
جب کبھی ہم نے آئینہ دیکھا