Tuesday, 5 January 2016

آج کے دور میں اے دوست یہ منظر کیوں ہے

آج کے دور میں اے دوست یہ منظر کیوں ہے 
زخم ہر سر پہ، ہر ایک ہاتھ میں پتھر کیوں ہے
جب حقیقت ہے کہ ہر ذرے میں تُو رہتا ہے
پھر زمین پر کہیں مسجد، کہیں مندر کیوں ہے
اپنا انجام تو معلوم ہے سب کو، پھر بھی
اپنی نظروں میں ہر انسان سکندر کیوں ہے
زندگی جینے کے قابل ہی نہیں اب فاکرؔ
ورنہ ہر آنکھ میں اشکوں کا سمندر کیوں ہے

سدرشن فاکر 

No comments:

Post a Comment