نرگس نے پھر نہ دیکھا جو آنکھ اٹھا چمن میں
کیا جانے کس نے کس سے کیا کر لیا چمن میں
چڑھ بیٹھا یاسمیں کی گردن پہ عشق پیچاں
آیا کدھر سے کافر یہ تسمہ پا چمن میں
نالے پہ میرے نالے کرنے لگی ہے اب تو
تکلیف سیر گلشن، اے ہم صفیر مت دے
اس گل بغیر میرا کب دل لگا چمن میں
کچھ اوس سی گلوں پر کیوں پڑ گئی یکایک
دیکھو تو کس نے کھولے بندِ قبا چمن میں
ایسی ہوا چلی ہے تو بھی نہ پوچھے کوئی
کوئل کا جاوے کوا گر منہ چڑا چمن میں
داؤدی آج پہنے عیسیٰ کا پیرہن ہے
ٹک سیر کیجیے عالم مہتاب کے چمن میں
مجھ کو دکھا جواس نے کاجل دیا تو اس کے
معنی یہ تھے کہ شب کو نرگس کے آ چمن میں
بجلی نہیں چمکتی نے ابر ہے ہی تجھ بن
پھرتی ہے آگ اڑاتی کالی بلا چمن میں
ہے کیوڑے کی مادہ کیا چیز کیتکی جو
اس بو کو تیری پہنچے وہ بوغما چمن میں
ہے ہے پھریری لے لے تیرا یہ کہتے جانا
چلتی ہے ٹھنڈی ٹھنڈی کیا ہی ہوا چمن میں
انشا اللہ خان انشا
No comments:
Post a Comment