Tuesday, 5 January 2016

نرگس نے پھر نہ دیکھا جو آنکھ اٹھا چمن میں

نرگس نے پھر نہ دیکھا جو آنکھ اٹھا چمن میں
کیا جانے کس نے کس سے کیا کر لیا چمن میں
چڑھ بیٹھا یاسمیں کی گردن پہ عشق پیچاں
آیا کدھر سے کافر یہ تسمہ پا چمن میں
نالے پہ میرے نالے کرنے لگی ہے اب تو
بلبل نے یہ نکالا نخرا نیا چمن میں
تکلیف سیر گلشن، اے ہم صفیر مت دے
اس گل بغیر میرا کب دل لگا چمن میں
کچھ اوس سی گلوں پر کیوں پڑ گئی یکایک
دیکھو تو کس نے کھولے بندِ قبا چمن میں
ایسی ہوا چلی ہے تو بھی نہ پوچھے کوئی
کوئل کا جاوے کوا گر منہ چڑا چمن میں
داؤدی آج پہنے عیسیٰ کا پیرہن ہے
ٹک سیر کیجیے عالم مہتاب کے چمن میں
مجھ کو دکھا جواس نے کاجل دیا تو اس کے
معنی یہ تھے کہ شب کو نرگس کے آ چمن میں
بجلی نہیں چمکتی نے ابر ہے ہی تجھ بن
پھرتی ہے آگ اڑاتی کالی بلا چمن میں
ہے کیوڑے کی مادہ کیا چیز کیتکی جو
اس بو کو تیری پہنچے وہ بوغما چمن میں
ہے ہے پھریری لے لے تیرا یہ کہتے جانا
چلتی ہے ٹھنڈی ٹھنڈی کیا ہی ہوا چمن میں

انشا اللہ خان انشا

No comments:

Post a Comment