Showing posts with label انیس سلطانہ. Show all posts
Showing posts with label انیس سلطانہ. Show all posts

Wednesday, 10 June 2026

جگمگاتے شہر کی رعنائیوں میں کھو گیا

 جگمگاتے شہر کی رعنائیوں میں کھو گیا

تھا وہ سُورج سا مگر پرچھائیوں میں کھو گیا

آنے والے وقت نے سمجھا اُسے اپنا نقیب

وہ پرِ پرواز کیوں پہنائیوں میں کھو گیا

میرا چہرہ اپنے پس منظر سے خُود واقف نہ تھا

بھِیڑ میں تو ساتھ تھا، تنہائیوں میں کھو گیا

Thursday, 3 July 2025

فریب ذات کے دلکش بتوں کو کس نے یوں توڑا

 فریب ذات کے دلکش بتوں کو کس نے یوں توڑا

ہمیں تھے جس نے ہستی کے حقائق سے نہ منہ موڑا

درِ حسرت یہ کیا تکتا ہے اے دل نو بہ نو جلوے

کسی کی سرفرازی دیکھ کر کرئیے نہ دل توڑا

یہ غم کیا کم ہے اے ہمدم! کہ بستی کے غزالوں کو

ابھی دشتِ تغافل کی تمنا نے نہیں چھوڑا

Thursday, 5 June 2025

آنے والوں میں وہی محفل میں تنہا سا لگا

 آنے والوں میں وہی محفل میں تنہا سا لگا

مجھ کو لیکن جانے کیوں وہ شخص اپنا سا لگا

دیدنی ہے گرچہ عالم میں ہر اک نقشِ حیات

دیکھنے والی نظر کو صرف خاکہ سا لگا

آج تک آئینہ میں نے غور سے دیکھا نہ تھا

جو ورق کھولا وہ اپنا ہی سراپا سا لگا

Monday, 2 June 2025

بروز حشر مرا احتساب کیا ہو گا

 بروز حشر مِرا احتساب کیا ہو گا

کہ اس زمیں کے سوا اور عذاب کیا ہو گا

مدام فکر میں بے عقل کا تسلسل کار

کتاب زیست کا آئندہ باب کیا ہو گا

جواں دلوں میں فقط نفرتیں ہی ملتی ہیں

زیادہ اس سے کوئی انقلاب کیا ہو گا