جگمگاتے شہر کی رعنائیوں میں کھو گیا
تھا وہ سُورج سا مگر پرچھائیوں میں کھو گیا
آنے والے وقت نے سمجھا اُسے اپنا نقیب
وہ پرِ پرواز کیوں پہنائیوں میں کھو گیا
میرا چہرہ اپنے پس منظر سے خُود واقف نہ تھا
بھِیڑ میں تو ساتھ تھا، تنہائیوں میں کھو گیا
جگمگاتے شہر کی رعنائیوں میں کھو گیا
تھا وہ سُورج سا مگر پرچھائیوں میں کھو گیا
آنے والے وقت نے سمجھا اُسے اپنا نقیب
وہ پرِ پرواز کیوں پہنائیوں میں کھو گیا
میرا چہرہ اپنے پس منظر سے خُود واقف نہ تھا
بھِیڑ میں تو ساتھ تھا، تنہائیوں میں کھو گیا
فریب ذات کے دلکش بتوں کو کس نے یوں توڑا
ہمیں تھے جس نے ہستی کے حقائق سے نہ منہ موڑا
درِ حسرت یہ کیا تکتا ہے اے دل نو بہ نو جلوے
کسی کی سرفرازی دیکھ کر کرئیے نہ دل توڑا
یہ غم کیا کم ہے اے ہمدم! کہ بستی کے غزالوں کو
ابھی دشتِ تغافل کی تمنا نے نہیں چھوڑا
آنے والوں میں وہی محفل میں تنہا سا لگا
مجھ کو لیکن جانے کیوں وہ شخص اپنا سا لگا
دیدنی ہے گرچہ عالم میں ہر اک نقشِ حیات
دیکھنے والی نظر کو صرف خاکہ سا لگا
آج تک آئینہ میں نے غور سے دیکھا نہ تھا
جو ورق کھولا وہ اپنا ہی سراپا سا لگا
بروز حشر مِرا احتساب کیا ہو گا
کہ اس زمیں کے سوا اور عذاب کیا ہو گا
مدام فکر میں بے عقل کا تسلسل کار
کتاب زیست کا آئندہ باب کیا ہو گا
جواں دلوں میں فقط نفرتیں ہی ملتی ہیں
زیادہ اس سے کوئی انقلاب کیا ہو گا