ہم خدا کہتے ہیں سب جس کو صنم کہتے ہیں
تم نہ کہنا اسے اللہ جو ہم کہتے ہیں
رنج کہتے ہیں کسے کس کو الم کہتے ہیں
ہم تو اس کو بھی تِرا فضل و کرم کہتے ہیں
پڑ کے بیمار عیادت کو بلایا تجھ کو
دیکھ او رشک مسیحا اسے دم کہتے ہیں
ہم خدا کہتے ہیں سب جس کو صنم کہتے ہیں
تم نہ کہنا اسے اللہ جو ہم کہتے ہیں
رنج کہتے ہیں کسے کس کو الم کہتے ہیں
ہم تو اس کو بھی تِرا فضل و کرم کہتے ہیں
پڑ کے بیمار عیادت کو بلایا تجھ کو
دیکھ او رشک مسیحا اسے دم کہتے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
در نبی پہ پڑا رہوں گا، پڑے ہی رہنے سے کام ہو گا
کبھی تو قسمت کھلے گی میری کبھی تو میر سلام ہو گا
خلاف معشوق کچھ ہوا ہے نہ کوئی عاشق سے کام ہو گا
خدا بھی ہو گا ادھر اے دل! جدھر وہ عالی مقامﷺ ہو گا
کیے ہی جاؤں گا عرضِ مطلب ملے گا جب تک نہ دل کا مطلب
نہ شام مطلب کی صبح ہو گی،۔ نہ یہ فسانہ تمام ہو گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حاجت روا محمدﷺ، مشکل کشا محمدﷺ
اے کیف بے کسوں کے ہیں پیشوا محمدﷺ
ظاہر میں شکل انسان باطن میں نور یزداں
ہیں سب میں اور سب سے پھر ہیں جدا محمدﷺ
کیا خوف مہر محشر اے اُمتیانِ سرورﷺ
ہیں اپنے سر پہ مثلِ ظلِ خدا محمدﷺ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
باعث خلقت کون محمد صلی اللہ علیہ و سلم
آئینۂ رحمت کون محمد صلی اللہ علیہ و سلم
کون سراپا نورِ خدا ہے، کون شفیعِ روزِ جزا ہے
شافع امت کون محمد صلی اللہ علیہ و سلم
کون نبیؐ محبوب خدا ہے، کس کے لیے کونین بنا ہے
مالکِ جنت کون محمد صلی اللہ علیہ و سلم
دل میں جمالِ یار کی تنویر دیکھیے
اس آئینے میں صُورت تصویر دیکھیے
رُسوا تمام خلق میں ہوں یا ذلیل ہوں
کیا دن دکھائے نالۂ شبگیر دیکھیے
بندہ کہاں، جناب کہاں، یہ مکاں کہاں
مقسوم دیکھیے مِری تقدیر دیکھیے