Showing posts with label انیس ناگی. Show all posts
Showing posts with label انیس ناگی. Show all posts

Tuesday, 15 August 2023

لفظ نے لہو میں جنم لیا تھا

 لفظ

 

لفظ نے لہو میں جنم لیا تھا 

سیاہ جسم میں دھڑکتے ہوئے پرورش پائی تھی 

اور لبوں اور منہ میں سے پرواز کر گیا تھا 

بہت دور پھر، بہت قریب

یہ مہاجر نسلوں اور مردہ اجداد سے آیا تھا

Friday, 11 September 2020

زرد آسمان؛ انیس ناگی تم کہاں ہو

زرد آسمان پر مکالمہ

انیس ناگی
تم کہاں ہو؟
میں خدا کے زرد آسمان پر بیٹھے لکھ رہا ہوں
وہ ادھوری سرگزشت
جو جلا وطنی کی خبر آنے سے پہلے
بدن کی چادر تلے چھپا رکھی تھی

رفتہ رفتہ سب آوازیں

ایک نظم

رفتہ رفتہ سب آوازیں
جو دل کے اندر ہیں
اور باہر
اک ایسے سکتے میں کھو جائیں گی
جس کا مفہوم ابھی تک
کسی اشاعت گھر کے حرفوں میں ڈھلا نہیں ہے

Wednesday, 2 September 2020

حیات مہمل کی جستجو میں

حیات مہمل کی جستجو میں

میں
حیاتِ مہمل کی جستجو میں
سفر زمانے کا کر چکا ہوں
میں اک جواری کی طرح ساری بساط اپنی لٹا چکا ہوں
میں آدمی کے عظیم خوابوں کی سلطنت بھی گنوا چکا ہوں

خاموشی کا شہر

خاموشی کا شہر

ہوا دُھند کے پھیلے لب چومتی ہے
کہاں زندگی ہے؟
کہاں زندگی کے نشاں ہیں؟ کہ تم شہر میں ہو
جہاں ایک ہی روپ ہے، جو ہمیشہ رہے گا
اٹھو باؤلے! اب تمہیں کس تمنا نے منزل کا دھوکا دیا ہے
کہ تم سانس کی اوٹ میں چپ کھڑے سوچتے ہو

مرا مقدر عجیب ہے

نظم

مِرا مقدر عجیب ہے
میں طویل راتوں کا وہ دِیا ہوں 
جو اک لگن سے
ضمیر مجرم کے خواب میں کپکپا رہا ہوں 
اسے ملے گی نجات مجھ کو پتا نہیں ہے 
 میں تیرگی کا تضاد ہوں 
اور ضمیر مجرم کا خواب ہوں 

Friday, 3 May 2019

ایک تصویر

ایک تصویر

موم بتی کی چمکتی روشنی میں
سامنے دیوار پر
اس کا شکن آلود چہرہ کانپتا ہے

انیس ناگی

وقت مسافر

وقت مسافر

وقت ریت گھڑی میں گرتا ہے
وقت دھوپ گھڑی میں چڑھتا ہے
وقت ہندسوں میں چلتا ہے
وقت مسافر ہے
پیچھے سے آوازیں دو
آگے بھاگتا جاتا ہے

پہلے کشش عورت میں تھی

ایک بے کشش نظم

پہلے کشش عورت میں تھی
پھر کشش لفظوں میں تھی
اب لفظ عورت بے کشش
لہروں تک زمیں و آسماں کو دیکھتے ہیں
کائناتی سلسلوں میں
سلسلہ وہ ڈھونڈتے ہیں
جو ہمیں ویران کر کے جا چکا ہے

تیرے واسطے

تیرے واسطے

میں لفظ کی سب حدوں سے، سرحدوں سے
بہت دور ایسی لغت کی تلاشِ مسلسل میں ہوں
جو کبھی ان کہی داستان کو کہے گی
نیا اک جہان اس زمیں پر نمودار ہو گا
نئے لفظ سے میں شاعری لکھوں گا
تیرے واسطے

انیس ناگی

میں سرد مہر زندگی سے کیا طلب کروں

میں سرد مہر زندگی سے کیا طلب کروں
طلب تو ایک بحر ہے
زندگی تو سانس کی لپکتی ایک لہر ہے
جو آ کے پھر گزر گئی
چند سال اس کے نقشِ پا
یہیں کہیں کسی کے ذہن میں رہے