Friday, 11 September 2020

زرد آسمان؛ انیس ناگی تم کہاں ہو

زرد آسمان پر مکالمہ

انیس ناگی
تم کہاں ہو؟
میں خدا کے زرد آسمان پر بیٹھے لکھ رہا ہوں
وہ ادھوری سرگزشت
جو جلا وطنی کی خبر آنے سے پہلے
بدن کی چادر تلے چھپا رکھی تھی

میں، اترتی شاموں کا رنگ دیکھے بغیر
خوابوں کی فٹ پات پر چلتے ہوئے
غیر ممنوعہ نظمیں گنگناتا ہوں
جو پاک ٹی ہاؤس کی کرسی پر بیٹھے اونگھتی تھیں
مگر لمحوں کی تیز دھن پر جھومتے شاعر
قریب سے گزر جاتے ہیں
میں اب آزاد ہوں
خدا نے میرے دکھ سمیٹ لیے ہیں
میں اب کوئی عینک لگائے بغیر
اپنے وجود کا درخت دیکھ سکتا ہوں
اور سنا سکتا ہوں
دیوار کے پیچھے کی کہانی
جو ریت کے تودے کی طرح بکھرے بغیر
چل رہی ہے
چلتی رہے گی
اور
انیس ناگی
تم نہیں بدلے
تمہارے جنموں کے سادہ کاغذ پر
سوالیہ نشانوں کا پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے
وحشت زدہ چیخیں بھی تمہیں قائل کرنے سے قاصر ہیں
اور تمہاری کتابوں سے نکلے لفظ
ہماری آنکھوں میں سوراخ کر رہے ہیں
مگر تم جینا سیکھ چکے ہو
ایک غیر آباد علاقے میں
جہاں تمہیں کوئی ملنا بھی پسند نہیں کرتا

انیس ناگی

No comments:

Post a Comment