عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جنت البقیع ہو میرا ٹھکانہ کاش
ہو جاؤں ایک روز مدینے روانہ کاش
ہوتا رسولِ پاکﷺ کے شانہ بشانہ کاش
ہوتا مِرا زمانہ بھی اُن کا زمانہ کاش
ہو کر رہوں میں صرف خدا اور رسول کا
ہو میرا پھر کسی سے کوئی واسطہ نہ کاش
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جنت البقیع ہو میرا ٹھکانہ کاش
ہو جاؤں ایک روز مدینے روانہ کاش
ہوتا رسولِ پاکﷺ کے شانہ بشانہ کاش
ہوتا مِرا زمانہ بھی اُن کا زمانہ کاش
ہو کر رہوں میں صرف خدا اور رسول کا
ہو میرا پھر کسی سے کوئی واسطہ نہ کاش
ہوئے محروم ٹھنڈے پانیوں سے
فریزر بھر گئے قربانیوں سے
تِرے جینے کا ساماں ہو رہا ہے
ہماری بے سر و سامانیوں سے
نہیں آتے پلٹ کر جانے والے
سکوں ملتا ہے نوحہ خوانیوں سے
میری تنہائی کو تنہا مت کرو
آ کے میرے پاس ایسا مت کرو
یہ جہاں جینے نہیں دے گا تمہیں
تم ہمارے ساتھ اچھا مت کرو
خرچ ہو جاؤ گے آنے جانے میں
اس گلی کا رخ زیادہ مت کرو
میں ہوں اک دریائے فانی میں رواں
بے خس و خاشاک پانی میں رواں
مجھ پہ چلتا ہے تمہارا اختیار
ہوں تمہاری ہی کہانی میں رواں
میں کھٹکتا ہوں بہت سُوں کو بہت
جب سے ہوں اپنی روانی میں رواں
ارض و سما فریب نہ یہ بحر و بر فریب
ہے اصل میں یہ سارا فریبِ نظر فریب
پہلے سے ہم گزیدۂ احباب ہیں بہت
اس پر یہ مستزاد ہو تو بھی اگر فریب
کس کس کو روئیں کوچۂ بے اعتبار میں
چارہ فریب ہے تو کبھی چارہ گر فریب
نہیں یہ بھی نہیں اچھا اگرچہ
اسے سمجھی نہیں دنیا اگرچہ
مگر ہم سہتے سہتے سہہ گئے ہیں
جدائی تھی بڑا صدمہ اگرچہ
مگر پھر بھی بہت بکھرا پڑا ہوں
کیا خود کو بہت یکجا اگرچہ
سہگل انگار ہو چکے ہوئے ہیں
ہم تو بے کار ہو چکے ہوئے ہیں
ختم ہونے کو ہے کہانی اب
سارے کردار ہو چکے ہوئے ہیں
تیرے دھوکے میں اب نہ آئیں گے
ہم سمجھدار ہو چکے ہوئے ہیں
قاصد نہ آوے ہے کوئی نامہ نہ آوے ہے
مدت ہوئی ہے کوئی دلاسا نہ آوے ہے
اس کی طرف سے تو کوئی لیت و لعل نہیں
لیکن ہمیں یہ عشق وغیرہ نہ آوے ہے
محوِ سفر تو ایک زمانے سے ہوں مگر
قابو میں اُس کے شہر کا رستا نہ آوے ہے
بس ذرا اندر کے شک سے دُور ہے
عرش کب دل کی سڑک سے دور ہے
ساتھ رہ کر بھی ہیں اتنے دور ہم
یہ زمیں جتنی فلک سے دور ہے
وہ گرانی ہے کہ اب امید بھی
کوششِ نان و نمک سے دور ہے
الجھ بیٹھا تھا دھکم پیل کے ساتھ
کہاں تک دوڑتا میں ریل کے ساتھ
مجھے مجھ سے زیادہ جانتا ہے
بتاؤں کیا اُسے ڈیٹیل کے ساتھ
خبر کیا تھی کہ ایم اے پاس لڑکی
کرے گی عشق دسویں فیل کے ساتھ
منافق لوگ ہیں ہم کب کسی کو داد دیتے ہیں
اگر دیتے بھی ہیں تو زندگی کے بعد دیتے ہیں
بڑا احسان ہے ان دشمنوں کا ہم پہ جو اکثر
ہمیں برباد ہونے کے لیے امداد دیتے ہیں
غموں سے بھی زیادہ وہ الم انگیز ہوتی ہے
خوشی ہم کو وہ غم کے بعد جو اک آدھ دیتے ہیں