Showing posts with label رستم نامی. Show all posts
Showing posts with label رستم نامی. Show all posts

Wednesday, 31 July 2024

جنت البقیع ہو میرا ٹھکانہ کاش

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جنت البقیع ہو میرا ٹھکانہ کاش

ہو جاؤں ایک روز مدینے روانہ کاش

ہوتا رسولِ پاکﷺ کے شانہ بشانہ کاش

ہوتا مِرا زمانہ بھی اُن کا زمانہ کاش

ہو کر رہوں میں صرف خدا اور رسول کا

ہو میرا پھر کسی سے کوئی واسطہ نہ کاش

Saturday, 9 April 2022

ہوئے محروم ٹھنڈے پانیوں سے

 ہوئے محروم ٹھنڈے پانیوں سے

فریزر بھر گئے قربانیوں سے

تِرے جینے کا ساماں ہو رہا ہے

ہماری بے سر و سامانیوں سے

نہیں آتے پلٹ کر جانے والے

سکوں ملتا ہے نوحہ خوانیوں سے

Tuesday, 7 September 2021

میری تنہائی کو تنہا مت کرو

 میری تنہائی کو تنہا مت کرو

آ کے میرے پاس ایسا مت کرو

یہ جہاں جینے نہیں دے گا تمہیں

تم ہمارے ساتھ اچھا مت کرو

خرچ ہو جاؤ گے آنے جانے میں

اس گلی کا رخ زیادہ مت کرو

میں ہوں اک دریائے فانی میں رواں

 میں ہوں اک دریائے فانی میں رواں

بے خس و خاشاک پانی میں رواں

مجھ پہ چلتا ہے تمہارا اختیار

ہوں تمہاری ہی کہانی میں رواں

میں کھٹکتا ہوں بہت سُوں کو بہت

جب سے ہوں اپنی روانی میں رواں

Sunday, 8 August 2021

ارض و سما فریب نہ یہ بحر و بر فریب

 ارض و سما فریب نہ یہ بحر و بر فریب 

ہے اصل میں یہ سارا فریبِ نظر فریب 

پہلے سے ہم گزیدۂ احباب ہیں بہت 

اس پر یہ مستزاد ہو تو بھی اگر فریب

کس کس کو روئیں کوچۂ بے اعتبار میں 

چارہ فریب ہے تو کبھی چارہ گر فریب 

Sunday, 30 May 2021

نہیں یہ بھی نہیں اچھا اگرچہ

 نہیں یہ بھی نہیں اچھا اگرچہ

اسے سمجھی نہیں دنیا اگرچہ

مگر ہم سہتے سہتے سہہ گئے ہیں

جدائی تھی بڑا صدمہ اگرچہ

مگر پھر بھی بہت بکھرا پڑا ہوں

کیا خود کو بہت یکجا اگرچہ

Friday, 28 May 2021

سہگل انگار ہو چکے ہوئے ہیں

 سہگل انگار ہو چکے ہوئے ہیں

ہم تو بے کار ہو چکے ہوئے ہیں

ختم ہونے کو ہے کہانی اب

سارے کردار ہو چکے ہوئے ہیں

تیرے دھوکے میں اب نہ آئیں گے

ہم سمجھدار ہو چکے ہوئے ہیں

Thursday, 27 May 2021

قاصد نہ آوے ہے کوئی نامہ نہ آوے ہے

 قاصد نہ آوے ہے کوئی نامہ نہ آوے ہے

مدت ہوئی ہے کوئی دلاسا نہ آوے ہے

اس کی طرف سے تو کوئی لیت و لعل نہیں

لیکن ہمیں یہ عشق وغیرہ نہ آوے ہے

محوِ سفر تو ایک زمانے سے ہوں مگر

قابو میں اُس کے شہر کا رستا نہ آوے ہے

Tuesday, 25 May 2021

بس ذرا اندر کے شک سے دور ہے

 بس ذرا اندر کے شک سے دُور ہے

عرش کب دل کی سڑک سے دور ہے

ساتھ رہ کر بھی ہیں اتنے دور ہم

یہ زمیں جتنی فلک سے دور ہے

وہ گرانی ہے کہ اب امید بھی

کوششِ نان و نمک سے دور ہے

Monday, 24 May 2021

الجھ بیٹھا تھا دھکم پیل کے ساتھ

 الجھ بیٹھا تھا دھکم پیل کے ساتھ

کہاں تک دوڑتا میں ریل کے ساتھ

مجھے مجھ سے زیادہ جانتا ہے

بتاؤں کیا اُسے ڈیٹیل کے ساتھ

خبر کیا تھی کہ ایم اے پاس لڑکی

کرے گی عشق دسویں فیل کے ساتھ

Thursday, 25 March 2021

منافق لوگ ہیں ہم کب کسی کو داد دیتے ہیں

 منافق لوگ ہیں ہم کب کسی کو داد دیتے ہیں

اگر دیتے بھی ہیں تو زندگی کے بعد دیتے ہیں

بڑا احسان ہے ان دشمنوں کا ہم پہ جو اکثر

ہمیں برباد ہونے کے لیے امداد دیتے ہیں

غموں سے بھی زیادہ وہ الم انگیز ہوتی ہے

خوشی ہم کو وہ غم کے بعد جو اک آدھ دیتے ہیں