میری تنہائی کو تنہا مت کرو
آ کے میرے پاس ایسا مت کرو
یہ جہاں جینے نہیں دے گا تمہیں
تم ہمارے ساتھ اچھا مت کرو
خرچ ہو جاؤ گے آنے جانے میں
اس گلی کا رخ زیادہ مت کرو
بس تمہارے ساتھ سجتا ہے یہ کام
کچھ محبت کے علاوہ مت کرو
عشق میں رہتی ہے کچھ تو نوک جھونک
اس قدر بھی دل کو چھوٹا مت کر
توڑتے رہتے ہو نامی بار بار
اس لیے فی الحال توبہ مت کرو
رستم نامی
No comments:
Post a Comment