خود کو سوچا ہے کہ اب تنہا کروں
دل سے اک مہمان کو چلتا کروں
وقت تک ملتا نہیں اپنے لیے
اس قدر مصروف ہوں میں کیا کروں
کوئی کر تدبیر مل بیٹھیں کہیں
تجھ سے مل کر دل کا غم ہلکا کروں
اب سہی جاتیں نہیں یہ رنجشیں
خود کو کوسوں یا انہیں کوسا کروں
کر دیا رُسوا، مجھے تو نے مگر
میں تجھے دنیا میں کیوں رسوا کروں
ہو میسر جاودانی کا سفر
خود کو اپنی ذات سے منہا کروں
جنگ رشتوں اور انا میں چھڑ گئی
ہار نے کا حوصلہ پیدا کروں
اس نے پوچھا یاد کرتی ہو مجھے
کیا تمہیں ملنے کبھی آیا کروں
کہہ دیا میں نے گزر جاتا ہے دن
رات کے سب مسئلوں کا کیا کروں
درد نے دل میں نہ چھوڑی کچھ جگہ
تم رہو گے اب کہاں سوچا کروں
گھر کی چوکھٹ پر میں اپنی بیٹھ کر
تیری اب بھی راہ میں دیکھا کروں
گر مجھے فرصت ملے شمسہ نجم
بس اسے ہر وقت میں سوچا کروں
شمسہ نجم
No comments:
Post a Comment