Tuesday, 7 September 2021

خود کو سوچا ہے کہ اب تنہا کروں

 خود کو سوچا ہے کہ اب تنہا کروں

دل سے اک مہمان کو چلتا کروں

وقت تک ملتا نہیں اپنے لیے

اس قدر مصروف ہوں میں کیا کروں

کوئی کر تدبیر مل بیٹھیں کہیں

تجھ سے مل کر دل کا غم ہلکا کروں

اب سہی جاتیں نہیں یہ رنجشیں

خود کو کوسوں یا انہیں کوسا کروں

کر دیا رُسوا، مجھے تو نے مگر

میں تجھے دنیا میں کیوں رسوا کروں

ہو میسر جاودانی کا سفر

خود کو اپنی ذات سے منہا کروں

جنگ رشتوں اور انا میں چھڑ گئی

ہار نے کا حوصلہ پیدا کروں

اس نے پوچھا یاد کرتی ہو مجھے

کیا تمہیں ملنے کبھی آیا کروں

کہہ دیا میں نے گزر جاتا ہے دن

رات کے سب مسئلوں کا کیا کروں

درد نے دل میں نہ چھوڑی کچھ جگہ

تم رہو گے اب کہاں سوچا کروں

گھر کی چوکھٹ پر میں اپنی بیٹھ کر

تیری اب بھی راہ میں دیکھا کروں

گر مجھے فرصت ملے شمسہ نجم

بس اسے ہر وقت میں سوچا کروں


شمسہ نجم

No comments:

Post a Comment