آکسیجن بھی ہچکی بھرنے لگتی ہے
جب اک پیڑ پہ آری چلنے لگتی ہے
موٹر وے ہو یا پگڈنڈی، دیکھ کے چل
دُھند میں اکثر سمت بدلنے لگتی ہے
تیرے ہجر کا اندیشہ ایسے جیسے
پٹڑی پر سے ریل اُترنے لگتی ہے
آکسیجن بھی ہچکی بھرنے لگتی ہے
جب اک پیڑ پہ آری چلنے لگتی ہے
موٹر وے ہو یا پگڈنڈی، دیکھ کے چل
دُھند میں اکثر سمت بدلنے لگتی ہے
تیرے ہجر کا اندیشہ ایسے جیسے
پٹڑی پر سے ریل اُترنے لگتی ہے
مجھے چھوڑ تُو جسے جا ملا تُجھے کیا ملا
مجھے عُمر بھر کا خلا ملا تجھے کیا ملا
تُو گیا تُو تجھ پہ وفا کے در سبھی بند تھے
مجھے مے کدہ تو کُھلا، تجھے کیا ملا
میں تیری تلاش میں دُور تک تھا بھٹک گیا
مجھے راستے میں خُدا ملا تجھے کیا ملا
ایسی دنیا ہے جہاں بیٹھے کھڑے پیار کریں
میں وہاں ہوں کہ جہاں چھوٹے بڑے پیار کریں
یہ میرا حُسنِ عمل ہے میرے یوسف ثانی
تیرے ہوتے ہوئے بھی لوگ مجھے پیار کریں
تُو نعمت ہے جسے چُھو بھی نہیں سکتا کوئی
میں وہ لب ہوں جسے پانی کے گھڑے پیار کریں
خدا خفا ہے
گُھٹن نہیں ہے، ہے خوف کوئی
جو سانس لینے سے روکتا ہے
جو روکتا ہے سماعتوں کو کسی بھی آہٹ پہ جاگنے سے
سُروں کو سُننے سے روکتا ہے
بصارتوں کو کسی بھی منظر کے دیکھنے سے
کسی نظارے کو ڈھونڈنے سے جو روکتا ہے