Showing posts with label فضا اعظمی. Show all posts
Showing posts with label فضا اعظمی. Show all posts

Saturday, 3 April 2021

محشرِ خواب و خیالات لیے بیٹھے ہیں

 محشرِ خواب و خیالات لیے بیٹھے ہیں

تم سے اُمیدِ ملاقات لیے بیٹھے ہیں

تم نہیں ہو تو عجب عالمِ تارِیکی ہے

صبح ہوتی ہی نہیں، رات لیے بیٹھے ہیں

ایسی کیا بات ہے، دم بھر کے لیے آ جاؤ

کب سے ہم چھوٹی سی اک بات لیے بیٹھے ہیں

Saturday, 4 July 2020

جہاں میں شیخ و برہمن سبھی برابر ہیں

جہاں میں شیخ و برہمن سبھی برابر ہیں
یہاں پہ رہبر و رہزن سبھی برابر ہیں
بطور بندۂ خالق ہیں ایک صف میں کھڑے
بشکلِ آدم خاکی "سبھی" برابر ہیں
نہ ان میں کوئی ہے چھوٹا نہ ہے بڑا کوئی
نہ کوئی عرش نشیں ہے، نہ بے نوا کوئی

کون کہتا ہے کہ تاریخ سکھاتی ہے سبق

خاکدانِ تاریخ

کون کہتا ہے کہ تاریخ سکھاتی ہے سبق
کس نے اس دہر میں تاریخ سے سیکھا ہے سبق
چند روندے ہوئے آثارِ قدیمہ کے کھنڈر
چند دریاؤں میں بہتی ہوئی تاریخِ رقیق
خاکدانوں میں سمیٹا ہوا کوڑا کرکٹ
بادشاہوں کی حکایاتِ فتوحات کا ذکر

تم نے اس دہر کو پاتال بنا رکھا ہے

اقتباس از مثنوی زوالِ آدم

تم نے اس دہر کو پاتال بنا رکھا ہے
بھوک اور پیاس سے سڑکوں پر تڑپتے ہوئے لوگ
قحط و افلاس کی چکی میں سسکتے ہوئے لوگ
ملک گیری کی ہوس کے لیے لڑتے ہوئے لوگ
تشنگی آج ہے انسان کی قسمت کی لکیر
چاہِ بے آب پہ ایستادہ ہے پیاسوں کی بھیڑ

از مثنوی زوال آدم

اقتباس از مثنوی زوالِ آدم

ہر صدی دوسری صدی سے ہے زیادہ خونچکاں
تب کے چنگیز سے خونخوار ہے اب کا چنگیز
کل کا چنگیز تو لڑتا تھا بہ شمشیر و سناں
اب کے چنگیز کے ہاتھوں میں ہے ایٹم کا دھواں
کل کے چنگیز سے محفوظ تھے معصوم عوام
اب جھلس دیتا ہے شہروں کو امیر الاقوام

Saturday, 27 June 2020

میں اس زنداں کا قیدی ہوں

مرثیۂ مرگِ ضمیر

زندانِ ضمیر

میں اس زنداں کا قیدی ہوں
نہیں جس کا کوئی ثانی
نہ یہ مینارِ لندن ہے
نہ اس کا کالے پانی سے تعلق ہے

اگر تم ذہنیت اپنی زمیندارانہ رکھو گے

انتباہ

اگر تم ذہنیت اپنی زمیندارانہ رکھو گے
اگر تم ذریعۂ دولت بناؤ گے سیاست کو
اگر تم آگ بھڑکاؤ گے صوبائی تعصب کی
اگر تم عدل اور انصاف کو قدموں میں روندو گے
تو تم تاریخ کی دہلیز پر آنسو بہاؤ گے

شبستان حکومت میں عوامی انقلاب آیا

اقتباس از نظم (عوامی انقلاب)


شبستانِ حکومت میں عوامی انقلاب آیا
بنامِ حاکماں پیغامِ شوریدہ سراں آیا
اتارو تاج اپنے، تخت چھوڑو، سر جھکاؤ، سرنگوں ہو کر
سوئے بیرک روانہ ہو
یہ سیلابِ عوامی ہے
بہا لے جائے گا تم کو

Sunday, 19 February 2017

عذاب ہمسائیگی

اقتباس از عذابِ ہمسائیگی

کرو تم یاد اس دن کو کہ جب تم نے
ہماری اک رقم کو روکنے کا فیصلہ کر کے
ہمیں مشکل میں ڈالا تھا
تمہارے اس غلط اور غاصبانہ حکم کی تنسیخ کی خاطر
تمہارے قائدِ اول نے خود کش برتھ رکھا تھا

کہ مذہب ہار جاتا ہے سیاست جیت جاتی ہے

مذہبی رہنما

کہ مذہب ہار جاتا ہے سیاست جیت جاتی ہے
مجھے اپنی ہمہ دانی کے اوپر عزمِ راسخ ہے 
سو میں بے تاب ہو کر پرچمِ مذہب اٹھاتا ہوں
اور اس کی چھتر چھایا میں 
مفاداتِ دُنی کے قافلے کو لے کے چلتا ہوں

عروج آدمیت حقوق نسواں

اقتباس از عروجِ آدمیت حقوقِ نسواں

یہ تھا ادبار عورت پر کہ جب پیغامِ حق آیا
خواتیں کے لیے انصاف کا پہلا سبق آیا
ہوا نازل صحیفۂ آخری توقیرِ انساں کا
دکھی عورت کی خاطر امن کا پیغامبر آیا
حرا کے غار سے روشن ہوا خورشید ایماں کا
ہوا منشورِ نو جاری حقوقِ نوعِ انساں کا

جرگہ تمہیں ایک فوقیت حاصل تھی دنیائے تمدن میں

(اقتباس از جرگہ (خود ساختہ قوانین 

تمہیں ایک فوقیت حاصل تھی دنیائے تمدن میں
تمہاری امتیازی شان تھی اقوامِ عالم میں
جہاں میں ایک نشاطِ ثانیہ کے پیش رو تم تھے
کئی اقدار کے بانی تھے تہذیبوں کے آنگن میں
جب انسانوں کے اوپر ظلم کا خفقان طاری تھا
تو اہلِ عالمِ اسلام کا فیضان جاری تھا

کرنے کو ستم ہم پر وہ کیا کیا نہیں کرتے

کرنے کو ستم ہم پر وہ کیا کیا نہیں کرتے
پر جاں سے گزر جائیں وہ اتنا نہیں کرتے
رِستے ہوئے زخموں کی نمائش نہیں کرتے
تپتے ہوئے احساس کا چرچا نہیں کرتے
تاریخ کے صحرا میں اڑاتے نہیں ہم خاک
مجنوں ہیں مگر ویسا تماشا نہیں کرتے

Friday, 3 February 2017

بشر کی طاقت انکار کم نہ ہو جائے

بشر کی طاقتِ انکار

بشر کی طاقتِ انکار کم نہ ہو جائے
تمہاری رونقِ دربار کم نہ ہو جائے
تم اس قدر نہ بڑھاؤ رسومِ عجز و نیاز
طوافِ کعبہ کا معیار کم نہ ہو جائے
تم اتنا بیش نہ کر دو نصابِ ذکر و سجود
مقامِ عظمتِ کردار کم نہ ہو جائے

فضا اعظمی

ہوا منشور نو جاری حقوق نوع نسواں کا

حقوقِ نسواں پر ایک نظم

یہ تھا ادبار عورت پر کہ جب پیغام حق آیا 
خواتین کے لیے انصاف کا پہلا سبق آیا 
ہوا نازل صحیفہ آخری توقیر انسان کا 
دکھی عورت کی خاطر امن کا پیغامبر آیا 
حرا کے غار سے روشن ہوا خورشید ایمان کا 
ہوا منشورِ نو جاری حقوقِ نوعِ نسواں کا

فضا اعظمی

یہ کیا سچ ہے کہ تم قرآن سے شادی رچاتے ہو

‘اقتباس از ’خاک میں صورتیں

یہ کیا سچ ہے کہ تم قرآن سے شادی رچاتے ہو
اور اس صورت سے تم اپنی زمینداری بچاتے ہو
تم اپنی عاقبت اس طرح سے برباد کرتے ہو
کلام اللہ کی تم اس طرح تحقیر کرتے ہو
کہاں نور الٰہی اور کہاں قرآن کی عظمت
کہاں یہ ملحدانہ سوچ، یہ افرادِ بد طینت

فضا اعظمی

کہ جس آغوش میں انسان کی تقدیر پلتی ہے

عورت کی عظمت کے حوالے سے ایک نظم

کہ جس آغوش میں انسان کی تقدیر پلتی ہے
کہ جن ہاتھوں سے ملک اور قوم کی تصویر بنتی ہے
کہ جس مکتب میں رجحانات کی تشکیل ہوتی ہے
کہ جس ماحول میں اخلاق کی تعمیر ہوتی ہے
اسے معتوب اور معزول کر دینے کی سازش ہے
اسے معدوم اور مفقود کر دینے کی سازش

فضا اعظمی