Showing posts with label پابلو نرودا. Show all posts
Showing posts with label پابلو نرودا. Show all posts

Tuesday, 20 October 2026

یوں سمجھو دھیرے دھیرے مر رہے ہو

 یوں سمجھو دِھیرے دِھیرے مر رہے ہو

اگر رستے بُلانا چھوڑ دیں تو

کتابیں اجنبی لگنے لگیں تو

اگر سازوں سے آوازیں نہ اُبھریں

اگر خُود سے محبت نہ رہے تو

یوں سمجھو دھیرے دھیرے مر رہے ہو

Friday, 5 April 2024

میں تم سے محبت کرتا ہوں

 تم یہاں ہو

اور کہیں مت جاؤ

تم میری آخری سِسکی تک ٹھہرو

اور مجھ سے کسی خوفزدہ شخص کی طرح لِپٹ جاؤ

کہ کبھی ایک اجنبی سایہ تمہاری آنکھوں سے گُزرا تھا

اب بھی ہاں ابھی بھی تم میرے لیے شہد آشام بنتی ہو

Wednesday, 4 October 2023

تم میری ہو میری جان اب فقط میری

 تم میری ہو میری جان، اب فقط میری

میرے سپنوں میں چلی آؤ، آرام کرو

اپنے خوابوں کو بھی لے آؤ،  بسرام کرو

  کوئی کام ہو  محبت ہو، یا ہو درد کی  صورت

آج کی شب ان سب کو کہیں سونے دو

اتنا تو بس ہونے دو

Monday, 21 August 2023

جب کہ تم موجود ہو مجھ میں

 میرے بغیر

 

جب کہ تم موجود ہو مجھ میں

تو یہ خیال کہ میں چھوڑ چکا ہوں تم کو

مشکل ہے اس بات پہ یقین کرنا

یہ بے چینی، ہونٹوں کی لرزش 

کپکپاہٹ یا جذبات کے مجروح

Saturday, 19 August 2023

گر تم مجھے بھولنا چاہو

 گر تم مجھے بھولنا چاہو

 

میری ایک بات، سنو

خزاں کے موسم میں

کھڑکی سے ذرا پرے

سرخ ہوتے ہوئے پتوں پر

شفاف چاند کی زرد روشنی

کو چھونے کی کوشش کچھ یوں ہے

Tuesday, 15 August 2023

لفظ نے لہو میں جنم لیا تھا

 لفظ

 

لفظ نے لہو میں جنم لیا تھا 

سیاہ جسم میں دھڑکتے ہوئے پرورش پائی تھی 

اور لبوں اور منہ میں سے پرواز کر گیا تھا 

بہت دور پھر، بہت قریب

یہ مہاجر نسلوں اور مردہ اجداد سے آیا تھا

Sunday, 6 August 2023

مجھے تمہارا انتظار کرنا اچھا لگتا ہے

 مجھے تمہارا انتظار کرنا اچھا لگتا ہے

مجھے تمہارا انتظار کرنا اچھا لگتا ہے

یوں ہے کہ تم موجود نہیں ہو

تم بہت فاصلے سے مجھے سنتی ہو

اور میری آواز تمہیں چُھو نہیں سکتی

یوں ہے کہ تمہاری آنکھیں کہیں اڑ گئی ہیں

Wednesday, 19 July 2023

اب وہ رہنے دیں گے مجھے سکون سے

 I ask for silence 


اب وہ رہنے دیں گے مجھے سکون سے

تاکہ میری عدم موجودگی سے مانوس ہو جائیں

اب میں آنکھیں بند کرنے لگا ہوں

میری  خواہشات ہیں صرف پانچ

پانچ چنیدہ سرچشمے

پہلی، ایک لا متناہی محبت

دوسری، خزاں کا نظارہ

Wednesday, 23 November 2022

پورے آسمان میں سے نصف چاند

 پورے آسمان میں سے نصف چاند

دو پہاڑوں کے درمیاں لنگر انداز ہے

آوارہ پھرتی رات آنکھوں کے خنجر میں ڈھل رہی ہے

دیکھو اب کتنے ستارے تالاب میں گرتے ہیں

رات میری آنکھوں کے درمیان

سوگواری کے خط کھینچ کر غائب ہو جاتی ہے

Tuesday, 19 April 2022

آئیے ہم ان لوگوں کو بھول جائیں

 آئیے 

ہم کُھلے دل کے ساتھ

ان لوگوں کو بھول جائیں 

جو ہم سے محبت نہ کر سکے 


پابلو نرودا 

اردو ترجمہ

Tuesday, 1 September 2020

مجھے آشکار ہونے دو

میں کتابوں کی طرح
ملفوف نہیں ہونا چاہتا
مجھے آشکار ہونے دو
میری نظمیں خالی نظمیں نہیں ہیں
بلکہ پرجوش واقعات کو نگلنے والی بلائیں ہیں

پابلو نرودا

مچھلی اور ڈوبتا ہوا شخص

مچھلی اور ڈوبتا ہوا شخص


پریشان حال ڈوبتا ہوا شخص
مدوجذر کی جانب
ایک ڈھال کی مانند بڑھ رہا ہے
سمندر کی تہہ میں
ایک زخمی میراث کی مانند
ڈوب جاۓ گا

پابلو نرودا

Monday, 31 August 2020

جزیروں میں انسانی چہرے اگنے لگے

راپا نوئی سے اقتباس

جزیروں میں انسانی چہرے اُگنے لگے
بموں سے پیدا ہونے والے گڑھوں سے
نئے انسانوں نے جنم لیا
یہ انسان وہ سنتری ہیں
جو دریاؤں کے رخ موڑنے کی طاقت رکھتے ہیں

پابلو نرودا

غلاموں کو میں اپنی خوابیدہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں

ماضی کے دامن میں سوۓ ہوۓ غلاموں کو
میں اپنی خوابیدہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں
ہزاروں مرد اور عورتیں
جو بارش اور طوفان کی نذر ہوۓ

پابلو نرودا

بائیو بائیو مجھ سے باتیں کرو

بائیو بائیو 

بائیو بائیو مجھ سے باتیں کرو
تم نے مجھے زبان عطا کی ہے
تُو نے مجھے 
بارش اور پتوں کی بوچھاڑ کا گیت دیا ہے

پابلو نرودا

٭بائیو بائیو ایک سپینی دریا ہے 

میرے راکھ راکھ گھر کو دیکھو

کانتو جنرل

اقتباس از نظم

غدار جرنیلو
میرے راکھ راکھ گھر کو دیکھو
ٹوٹے پھوٹے سپین کو دیکھو
مکانوں سے اگتے ہوۓ پھولوں کی بجاۓ
اٹھتے ہوۓ شعلوں کو دیکھو

پابلو نرودا

Friday, 3 May 2019

صنوبروں کی وسعت

صنوبروں کی وسعت

دور تک پھیلی صنوبروں کی وسعت
ہواؤں کی سرسراہٹ
روشنی کے مدھم اشارے
تنہا بجتی گھنٹیاں
تمہاری آنکھوں میں اترتی شام کا اندھیرا

تم موت کی طرف آہستہ آہستہ جا رہے ہو

You start dying slowly

اگر تم سفر نہیں کرتے، اگر تم مطالعہ نہیں کرتے
اگر تم زندگی کی آوازوں کو نہیں سنتے
اگر تم اپنے آپ کی تحسین نہیں کرتے
تو تم آہستہ آہستہ موت کی وادی میں اتر رہے ہو
جب تم اپنی عزت نفس کو قتل کرتے ہو
جب تم دوسروں کو اپنی مدد نہیں کرنے دیتے
تو تم موت کی طرف آہستہ آہستہ جا رہے ہو

کہو تم عدالت میں جانے سے پہلے

کہو تم عدالت میں جانے سے پہلے
کہو تم وزارت میں جانے سے پہلے
کہو تم سفارت میں جانے سے پہلے
دکھاؤ ہمیں اپنے اعمال نامے
قیامت کے دن اور خدا پر نہ چھوڑو
قیامت سے یہ لوگ ڈرتے نہیں ہیں

آج کی رات میں اپنی تمام تر اداسی لکھ سکتا ہوں

آج کی رات میں اپنی تمام تر اداسی لکھ سکتا ہوں
محبت بہت مختصر ہے اور اسے بھلانا بہت طویل
شاید یہ آخری دکھ ہے جو اس نے مجھے دیا
اور یہ آخری نظم، جو میں نے اس کے لیے لکھی

پابلو نرودا کی نظم کا اردو ترجمہ