واپسی
ہم جب جنگل سے نکل کر
بستی میں آئے
تو اپنے ننگے بدن دیکھ کر
شرما گئے
اور پھر ہم نے توضیح کی
واپسی
ہم جب جنگل سے نکل کر
بستی میں آئے
تو اپنے ننگے بدن دیکھ کر
شرما گئے
اور پھر ہم نے توضیح کی
نام
جو تمہارے کان میں پھونکا گیا تھا
وہ تمہارا نام کب تھا
وہ تو حسن عیب ہے
جو اس کو اس سے جدا کرتا ہے
آؤ سارے اسم فرضی بھول جائیں
اور یہ بھی بھول جائیں ہم کہ کچھ بھولے ہوئے ہیں
جھولتا سایہ
یہ جھولتا سایہ
سانپ ہے یا رسی
یہ جاننے سے پہلے
کیا یہ ماننا ہو گا
کے کوئی ایک ہے
اور اک نہیں ہے
فکر
کھونٹے سے بندھی بکری
اپنے دائرے میں
چر چکنے کے بعد
چبا رہی ہے
گلے کی رسی
سلگتا ریگزار
بھٹکتی پیاس
دور جھلملاتا اک سراب
جو نظر میں آ رہا ہے
وہ سمجھ میں آ رہا ہے
در حقیقت کچھ نہیں
ایک اندازہ ہے بس