ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے
ڈولی میں کیا اُٹھتی
ارتھی میں ہو گئی وِداع
مُفلس کی بیٹی
اظہار وارثی
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے
ڈولی میں کیا اُٹھتی
ارتھی میں ہو گئی وِداع
مُفلس کی بیٹی
اظہار وارثی
ماہیا/*ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
جس کا زیور کبھی تھیں قندیلیں
اس حویلی کے اب مقدر میں
کچھ کبوتر ہیں، کچھ ابابیلیں
اظہار وارثی
کلی کی خندہ لبی گل کی مشقِ سینہ دری
تمام حُسنِ فسوں کار کی کرشمہ گری
قبائے سبز ملی ہے حنا کی سُرخی کو
بیاضِ لالہ کو بخشی گئی حنا جگری
ہے گُل کے عارضِ رنگیں پہ قطرۂ شبنم
جبینِ صبح پہ جیسے ستارۂ سحری
جہاں جہاں ہیں زمیں پر قدم نشاں اس کے
ہر اس جگہ کو ستارے اتر کے دیکھتے ہیں
ہوا ہے تیز سنبھالے گا ان میں کتنوں کو
شجر کا حوصلہ پتے شجر کے دیکھتے ہیں
اسے بھی شوق ہے کچھ دھجیاں اڑانے کا
کچھ اپنی وسعتیں ہم بھی بکھر کے دیکھتے ہیں
میٹھی بانی بول کبیرا
کانوں میں رس گھول کبیرا
چُھپے ہوئے ہیں اصلی چہرے
چڑھے ہیں سب پر خول کبیرا
آج کی باتیں آج کے وعدے
ڈھول کے اندر پول کبیرا
دو ہم نفس وہ اور میں، میں اور وہ، بچپن کے دن
آدھی صدی کی دوستی کا عہدِ زریں
روز کا ملنا بچھڑنا، ساتھ پڑھنا، ساتھ لکھنا
اور اب کچھ بھی نہیں یادوں کی خوشبو کے سوا
آج اس کے زیر پا دنیا کا نقشہ اور میرے سر پہ ان رستوں کی دھول
جن پر بنا کرتے تھے میرے اور اس کے نقشِ پا شانہ بہ شانہ
لمحہ لمحہ دستک دے کر تڑپاتا ہے جانے کون
رات گئے من دروازے پر آ جاتا ہے جانے کون
اپنی سانسوں کی خوشبو کو گھول کے میری سانسوں میں
میرا سُونا جیون آنگن مہکاتا ہے جانے کون
اک انجانے ہاتھ کو اکثر شانے پر محسوس کروں
مجھ سے دور ہی رہ کر مجھ کو اپناتا ہے جانے کون