Showing posts with label آفتاب اقبال شمیم. Show all posts
Showing posts with label آفتاب اقبال شمیم. Show all posts

Wednesday, 13 September 2023

نظر کے سامنے رہنا نظر نہیں آنا

 نظر کے سامنے رہنا نظر نہیں آنا

تِرے سوا یہ کسی کو ہنر نہیں آنا

یہ انتظار مگر اختیار میں بھی نہیں

پتہ تو ہے کہ اسے عمر بھر نہیں آنا

یہ ہجرتیں ہیں زمین و زماں سے آگے کی

جو جا چکا ہے اسے لوٹ کر نہیں آنا

Wednesday, 5 July 2023

اک چادر بوسیدہ میں دوش پہ رکھتا ہوں

 اک چادر بوسیدہ میں دوش پہ رکھتا ہوں

اور دولتِ دنیا کو پاپوش پہ رکھتا ہوں

آنکھوں کو ٹکاتا ہوں ہنگامۂ دنیا پر

اور کان سخن ہائے خاموش پہ رکھتا ہوں

کیفیت بے خبری کیا چیز ہے کیا جانوں

بنیاد ہی ہونے کی جب ہوش پہ رکھتا ہوں

Wednesday, 28 June 2023

کہیں سوتا نہ رہ جاؤں صدا دے کر جگاؤ نا

 کہیں سوتا نہ رہ جاؤں صدا دے کر جگاؤ نا

مجھے ان آٹھ پہروں سے کبھی باہر بلاؤ نا

کُھلی آنکھوں سے کب تک جستجو کا خواب دیکھوں گا

حجابِ ہفت پردہ اپنے چہرے سے اٹھاؤ نا

ستارے پر ستارہ اوک میں بہتا چلا آئے

کسی شب کہکشاں انڈیل کر مجھ کو پلاؤ نا

Sunday, 3 April 2022

ہزیمتیں جو فنا کر گئیں غرور مرا

 ہزیمتیں جو فنا کر گئیں غرور مِرا

اُنہی کے دم سے منور ہوا شعور مرا

میں حیرتی کسی منصور کی تلاش میں ہوں

کرے جو آ کے یہ آئینہ چُور چُور مرا

رواجِ ذہن سے میں اختلاف رکھتا تھا

سرِ صلیب مجھے لے گیا فتور مرا

Tuesday, 29 March 2022

جیسی ہے وہ ہمیں تو محبوب سی لگے ہے

 جیسی ہے وہ ہمیں تو، محبوب سی لگے ہے

سب روشنی اسی سے منسوب سی لگے ہے

پھر موسم تمنا،۔ بارانِ اشک لایا

خوابوں کی ہر خیاباں مرطوب سی لگے ہے

اس بات کا حوالہ بدلا گیا ہے شاید

ناخوب تھی جو پہلے اب خوب سی لگے ہے

Sunday, 27 March 2022

منادی ہے بموں کے طبل دہشت پر منادی ہے

 منادی ہے بموں کے طبلِ دہشت پر منادی ہے

سزائے موت، سارے شہر کو اس نے سنا دی ہے

بگولا جو اٹھا ہے پھیل کر طوفاں نہ بن جائے

کسی نے خار و خس کو زورِ آتش سے ہوا دی ہے

اسے ہم عقدِ مستقبل کا ہنگامہ سمجھتے ہیں

یہ کوئی شورِ ماتم ہے نہ کوئی جشنِ شادی ہے

Saturday, 26 March 2022

خیالوں کا نگر اجڑے ہوئے منظر سے آگے ہے

 خیالوں کا نگر، اُجڑے ہوئے منظر سے آگے ہے

وہ نغمہ زار اس آواز کے بنجر سے آگے ہے

نفس اک موجِ کم آواز ہے، لیکن روانی میں

لہو کی ٹہنیوں کو کاٹتی حر حر سے آگے ہے

کبھی بے گانگی کا فاصلہ طے ہو نہیں پایا

ہمارے ساتھ کا گھر بھی ہمارے گھر سے آگے ہے

Monday, 21 February 2022

جگنوؤں سے سیکھیں گے ہم بھی روشنی کرنا

 جگنوؤں سے سیکھیں گے، ہم بھی روشنی کرنا

اختیار ظلمت میں کچھ نہ کچھ کمی کرنا

دل صداقتیں مانگے خیر و شر کی دنیا میں

وہم ہے محبت کا سب سے دوستی کرنا

کیوں پسند آیا ہے لا مکاں کی وسعت کو

میرا، چند گلیوں میں سیرِ زندگی کرنا

Thursday, 10 February 2022

پنجوں کے بل کھڑے ہوئے شب کی چٹان پر

 پنجوں کے بل کھڑے ہوئے شب کی چٹان پر

ناخن سے اک خراش لگا آسمان پر

برسوں درونِ سینہ سلگنا ہے پھر ہمیں

لگتا ہے قفلِ حبس ہوا کے مکان پر

اک دھاڑ ہے کہ چاروں طرف سے سنائی دے

گردابِ چشم بن گئیں آنکھیں مچان پر

Friday, 16 October 2020

منکر کا خوف پرانا پاسباں ظل الٰہی کا

 منکر کا خوف


پرانا پاسباں ظل الٰہی کا

جسے چاہے کرے منصب عطا عالم پناہی کا

اسے ترکیب آتی ہے

کسی مضمون کہنہ کو نیا عنوان دینے کی

وہ دیدہ ور ہمیشہ سے معین ہے

Thursday, 15 October 2020

پیاسوں کے لئے ایک نظم

 پیاسوں کے لیے ایک نظم


ہم وارث تختِ تمنا کے

ٹھہرے منظرکے سائے سے کب نکلیں گے

دُکھ کی دیروز سرائے سے کب نکلیں گے

ہم آب سراب کے دریا کو

دریا، کیسے تسلیم کریں

Wednesday, 14 October 2020

دن کے دورانئے میں ایک بے لیکھ جواری کی طرح

 دو چہرے، ایک چہرہ


دن کے دورانئے میں

ایک بے لیکھ جواری کی طرح

ہار دیتے ہو کمایا ہوا دھن خوابوں کا

پاؤں کے گرد تھکن بن کے لپٹتے ہوئے اس رستے پر

نیم فہمیدہ مقاصد کی تگ و دو میں رواں رہتے ہو

Tuesday, 13 October 2020

فیصلہ؛ اتنی بھیڑ میں اتنے گم کردہ سفروں میں

فیصلہ


 اتنی بِھیڑ میں، اتنے گم کردہ سفروں میں

اتنے پھیلاؤ میں، اتنی ظلمت میں

تو کیا معنی ڈھونڈے ہے

پیشانی پر ایک چراغِ چشم دھرے

ارے، ارے

Saturday, 10 October 2020

تو اس کے نام نقد جاں روانہ کیوں نہیں کرتا

 تہی اپنا یہ بے بخشش خزانہ کیوں نہیں کرتا

تو اس کے نام نقدِ جاں روانہ کیوں نہیں کرتا

تجھے اے گوشہ گیرِ ذات جو تجھ سے رہائی دے

کوئی اقدام ایسا باغیانہ کیوں نہیں کرتا

ہمیں کیا ہوتا، ہم آئے یہاں تیرے بلانے پر

تو پھر ہم سے سلوکِ دوستانہ کیوں نہیں کرتا

Saturday, 19 September 2020

بس کہ فطرت نے بنایا ہمیں آزاد پسند

 بس کہ فطرت نے بنایا ہمیں آزاد پسند

آپ کو یار پسند، اور مجھے دار پسند

جیت کر جانئے کیوں میں بھی ذرا خوش نہ ہوا

اور دنیا نے بھی میرے لیے کی ہار پسند

ڈال دے وہ بھی جو آنکھوں میں چھپا رکھی ہو

ایسی کنجوسیاں کرتے نہیں مے خوار پسند

Wednesday, 2 September 2020

مرے دکھ کا عہد طویل ہے

ہجر زاد

مِرے دُکھ کا عہد طویل ہے
مِرا نام لوحِ فراق پر ہے لکھا ہوا
میں جنم جنم سے کسی میں عکسِ مشابہت کی تلاش میں
پھر اپنے خواب سراب ساتھ لیے ہوۓ
گیا شہر شہر، نگر نگر

وقت کے ساتھ بدلنے کی جنہیں عادت ہو

وقت کے ساتھ بدلنے کی جنہیں عادت ہو
ایسے ابنائے زمانہ سے مجھے وحشت ہو
جیسے دیوار میں در، وقفۂ آزادی ہے
کیا خبر، جبر و ارادہ میں وہی نسبت ہو
روزمرہ کے مضافات میں ہم گھوم آئیں
اتنی فرصت ہو، مگر اتنی کسے فرصت ہو

Tuesday, 27 February 2018

اس نے اک اقرار میں ہاں سے نہیں کو دھو دیا

اس نے اک اقرار میں ہاں سے نہیں کو دھو دیا
ریت سے جھلسے ہوئے روئے زمیں کو دھو دیا
آخرش وہ اور اس کی بوریا ہی رہ گئے
دل کی طغیانی نے شاہ و شہ نشیں کو دھو دیا
دل میں اسکی شکل کے سو عکس اب بنتے نہیں
ایک ہی آنسو نے چشمِ بے یقیں کو دھو دیا

ذات کی نظربندی میں ادب پڑا ہے کیا

ذات کی نظر بندی میں ادب پڑا ہے کیا
یا قلم کی ہمت سے واقعہ بڑا ہے کیا
بھر گیا ہے لاشوں سے، آئینہ خراشوں سے
اپنے آپ سے کوئی رات بھر لڑا ہے کیا
عین ہیں اکائی میں خط و قوس ابجد کے
اس نے عین فرصت میں وہ بدن گھڑا ہے کیا

لرزہ سا کبھی تن میں کبھی جان میں آیا

لرزہ سا کبھی تن میں کبھی جان میں آیا
اک اشکِ فراموش مرے دھیان میں آیا
خوں ہو کے یہ دل طاق ہوا عرضِ ہنر میں
یہ ساز سدا ٹوٹ کے ہی تان میں آیا
تھا خواب بھی اک کرمکِ شب تاب کی صورت
جو روز میرے تیرہ شبستان میں آیا