نظر کے سامنے رہنا نظر نہیں آنا
تِرے سوا یہ کسی کو ہنر نہیں آنا
یہ انتظار مگر اختیار میں بھی نہیں
پتہ تو ہے کہ اسے عمر بھر نہیں آنا
یہ ہجرتیں ہیں زمین و زماں سے آگے کی
جو جا چکا ہے اسے لوٹ کر نہیں آنا
نظر کے سامنے رہنا نظر نہیں آنا
تِرے سوا یہ کسی کو ہنر نہیں آنا
یہ انتظار مگر اختیار میں بھی نہیں
پتہ تو ہے کہ اسے عمر بھر نہیں آنا
یہ ہجرتیں ہیں زمین و زماں سے آگے کی
جو جا چکا ہے اسے لوٹ کر نہیں آنا
اک چادر بوسیدہ میں دوش پہ رکھتا ہوں
اور دولتِ دنیا کو پاپوش پہ رکھتا ہوں
آنکھوں کو ٹکاتا ہوں ہنگامۂ دنیا پر
اور کان سخن ہائے خاموش پہ رکھتا ہوں
کیفیت بے خبری کیا چیز ہے کیا جانوں
بنیاد ہی ہونے کی جب ہوش پہ رکھتا ہوں
کہیں سوتا نہ رہ جاؤں صدا دے کر جگاؤ نا
مجھے ان آٹھ پہروں سے کبھی باہر بلاؤ نا
کُھلی آنکھوں سے کب تک جستجو کا خواب دیکھوں گا
حجابِ ہفت پردہ اپنے چہرے سے اٹھاؤ نا
ستارے پر ستارہ اوک میں بہتا چلا آئے
کسی شب کہکشاں انڈیل کر مجھ کو پلاؤ نا
ہزیمتیں جو فنا کر گئیں غرور مِرا
اُنہی کے دم سے منور ہوا شعور مرا
میں حیرتی کسی منصور کی تلاش میں ہوں
کرے جو آ کے یہ آئینہ چُور چُور مرا
رواجِ ذہن سے میں اختلاف رکھتا تھا
سرِ صلیب مجھے لے گیا فتور مرا
جیسی ہے وہ ہمیں تو، محبوب سی لگے ہے
سب روشنی اسی سے منسوب سی لگے ہے
پھر موسم تمنا،۔ بارانِ اشک لایا
خوابوں کی ہر خیاباں مرطوب سی لگے ہے
اس بات کا حوالہ بدلا گیا ہے شاید
ناخوب تھی جو پہلے اب خوب سی لگے ہے
منادی ہے بموں کے طبلِ دہشت پر منادی ہے
سزائے موت، سارے شہر کو اس نے سنا دی ہے
بگولا جو اٹھا ہے پھیل کر طوفاں نہ بن جائے
کسی نے خار و خس کو زورِ آتش سے ہوا دی ہے
اسے ہم عقدِ مستقبل کا ہنگامہ سمجھتے ہیں
یہ کوئی شورِ ماتم ہے نہ کوئی جشنِ شادی ہے
خیالوں کا نگر، اُجڑے ہوئے منظر سے آگے ہے
وہ نغمہ زار اس آواز کے بنجر سے آگے ہے
نفس اک موجِ کم آواز ہے، لیکن روانی میں
لہو کی ٹہنیوں کو کاٹتی حر حر سے آگے ہے
کبھی بے گانگی کا فاصلہ طے ہو نہیں پایا
ہمارے ساتھ کا گھر بھی ہمارے گھر سے آگے ہے
جگنوؤں سے سیکھیں گے، ہم بھی روشنی کرنا
اختیار ظلمت میں کچھ نہ کچھ کمی کرنا
دل صداقتیں مانگے خیر و شر کی دنیا میں
وہم ہے محبت کا سب سے دوستی کرنا
کیوں پسند آیا ہے لا مکاں کی وسعت کو
میرا، چند گلیوں میں سیرِ زندگی کرنا
پنجوں کے بل کھڑے ہوئے شب کی چٹان پر
ناخن سے اک خراش لگا آسمان پر
برسوں درونِ سینہ سلگنا ہے پھر ہمیں
لگتا ہے قفلِ حبس ہوا کے مکان پر
اک دھاڑ ہے کہ چاروں طرف سے سنائی دے
گردابِ چشم بن گئیں آنکھیں مچان پر
منکر کا خوف
پرانا پاسباں ظل الٰہی کا
جسے چاہے کرے منصب عطا عالم پناہی کا
اسے ترکیب آتی ہے
کسی مضمون کہنہ کو نیا عنوان دینے کی
وہ دیدہ ور ہمیشہ سے معین ہے
پیاسوں کے لیے ایک نظم
ہم وارث تختِ تمنا کے
ٹھہرے منظرکے سائے سے کب نکلیں گے
دُکھ کی دیروز سرائے سے کب نکلیں گے
ہم آب سراب کے دریا کو
دریا، کیسے تسلیم کریں
دو چہرے، ایک چہرہ
دن کے دورانئے میں
ایک بے لیکھ جواری کی طرح
ہار دیتے ہو کمایا ہوا دھن خوابوں کا
پاؤں کے گرد تھکن بن کے لپٹتے ہوئے اس رستے پر
نیم فہمیدہ مقاصد کی تگ و دو میں رواں رہتے ہو
فیصلہ
اتنی بِھیڑ میں، اتنے گم کردہ سفروں میں
اتنے پھیلاؤ میں، اتنی ظلمت میں
تو کیا معنی ڈھونڈے ہے
پیشانی پر ایک چراغِ چشم دھرے
ارے، ارے
تہی اپنا یہ بے بخشش خزانہ کیوں نہیں کرتا
تو اس کے نام نقدِ جاں روانہ کیوں نہیں کرتا
تجھے اے گوشہ گیرِ ذات جو تجھ سے رہائی دے
کوئی اقدام ایسا باغیانہ کیوں نہیں کرتا
ہمیں کیا ہوتا، ہم آئے یہاں تیرے بلانے پر
تو پھر ہم سے سلوکِ دوستانہ کیوں نہیں کرتا
بس کہ فطرت نے بنایا ہمیں آزاد پسند
آپ کو یار پسند، اور مجھے دار پسند
جیت کر جانئے کیوں میں بھی ذرا خوش نہ ہوا
اور دنیا نے بھی میرے لیے کی ہار پسند
ڈال دے وہ بھی جو آنکھوں میں چھپا رکھی ہو
ایسی کنجوسیاں کرتے نہیں مے خوار پسند