Monday, 26 October 2026

زن مریدوں کو ہدایت کسی کی جیب کاٹ لے

(طنزیہ کلام) زن مُریدوں کو ہدایت


کسی کی جیب کاٹ لے

کسی کا بٹوہ پار کر

روڈ پہ اب اکڑ کے چل

سینے کو یُوں اُبھار کر

سر کو ذرا لپیٹ لے

اپنی قمیض اُتار کر

بیگم کی کھا کے گالیاں

خُود کو نہ شرمسار کر

جورُو کے کان اینٹھ کے

سالی کا انتظار کر

اپنا بنا لے غیر کو

آنکھیں سبھی سے چار کر

بیگم سے سینڈلیں نہ کھا

ہار نہ مان ہار کر

تُو کوئی زن مُرید ہے

ایسا نہ کاروبار کر

طالب کا ہے یہ مشورہ

داڑھی مُنڈا سنگار کر


طالب قریشی

عبدالغفار قریشی

No comments:

Post a Comment