ہجوم غم سے گھبراتے نہیں ہم
محبت کر کے پچھتاتے نہیں ہم
بہت بے چین رہتے ہیں وہ اس دن
کسی دن جب نظر آتے نہیں ہم
گُلِ عارض پہ کوئی بات تو ہے
مگس کی طرح منڈلاتے نہیں ہم
نہ جانے کیا پِلاتے ہیں نظر سے
پیے بِن اُٹھ کے بھی جاتے نہیں ہم
انہیں بھی یاد رکھتے ہیں ہمیشہ
کہ جن کے دوست کہلاتے نہیں ہم
سِتم چُپ چاپ سہ لیتے ہیں عادل
لبوں پہ اُف مگر لاتے نہیں ہم
منظور عادل
No comments:
Post a Comment