Friday, 9 October 2026

ہجوم غم سے گھبراتے نہیں ہم

 ہجوم غم سے گھبراتے نہیں ہم

محبت کر کے پچھتاتے نہیں ہم

بہت بے چین رہتے ہیں وہ اس دن

کسی دن جب نظر آتے نہیں ہم

گُلِ عارض پہ کوئی بات تو ہے

مگس کی طرح منڈلاتے نہیں ہم

نہ جانے کیا پِلاتے ہیں نظر سے

پیے بِن اُٹھ کے بھی جاتے نہیں ہم

انہیں بھی یاد رکھتے ہیں ہمیشہ

کہ جن کے دوست کہلاتے نہیں ہم

سِتم چُپ چاپ سہ لیتے ہیں عادل

لبوں پہ اُف مگر لاتے نہیں ہم


منظور عادل

No comments:

Post a Comment