Saturday, 3 October 2026

تمہاری بزم میں محروم جام ہم بھی تھے

 تمہاری بزم میں محروم جام ہم بھی تھے

فقط رقیب نہیں تشنہ کام ہم بھی تھے

فقیہ شہر نے گمراہ کر دیا ورنہ

صفت شناس حلال و حرام ہم بھی تھے

عمامہ بند و قبا پوشگاں کا ذکر ہی کیا

ترے حضور میں با احترام ہم بھی تھے

شکستہ پائی میر سفر کا کیا شکوہ

کہ راہ شوق میں کچھ سست گام ہم بھی تھے

تری جفاؤں نے آزاد کر دیا ورنہ

تری اداؤں کے ادنیٰ غلام ہم بھی تھے

نگاہ خاص نے یک لخت کر دیا زندہ

وگرنہ کشتۂ دستور عام ہم بھی تھے


موسیٰ رضا

No comments:

Post a Comment