اپنوں کے کرم سے یا قضا سے
مر جائیں تو آپ کی بلا سے
گرتی رہی روز روز شبنم
مرتے رہے روز روز پیاسے
اے رہ زدگاں کہیں تو پہنچے
منہ موڑ گئے جو رہنما سے
اپنوں کے کرم سے یا قضا سے
مر جائیں تو آپ کی بلا سے
گرتی رہی روز روز شبنم
مرتے رہے روز روز پیاسے
اے رہ زدگاں کہیں تو پہنچے
منہ موڑ گئے جو رہنما سے