Showing posts with label عزیز قیسی. Show all posts
Showing posts with label عزیز قیسی. Show all posts

Monday, 12 April 2021

اپنوں کے کرم سے یا قضا سے

 اپنوں کے کرم سے یا قضا سے

مر جائیں تو آپ کی بلا سے

گرتی رہی روز روز شبنم

مرتے رہے روز روز پیاسے

اے رہ زدگاں کہیں تو پہنچے

منہ موڑ گئے جو رہنما سے

Thursday, 20 August 2020

مٹا کے انجمن آرزو صدا دی ہے

مٹا کے انجمنِ آرزو، صدا دی ہے
چلے بھی آؤ کہ ہر روشنی بجھا دی ہے
گر اتفاق سے پایا ہے قطرۂ 💧 شبنم
سمندروں کو مِری پیاس نے دعا دی ہے
ہجومِ راہرواں، روند کر گزرتا ہے
بساط دل کی کہاں ہم نے یہ بچھا دی ہے

تعلق مجھ میں تم میں کیا ہے

تلازم

تعلق مجھ میں تم میں کیا ہے 
تم مانو نہ مانو 
تم اسے ٹھکراؤ یا جھٹلاؤ، لیکن یہ حقیقت ہے 
تمہیں میری ضرورت ہے 
بہت خوش دید ہیں آنکھیں تمہاری 
خوش نظر بھی ہیں 

ہر آنکھ لہو ساگر ہے میاں ہر دل پتھر سناٹا ہے

ہر آنکھ لہو ساگر ہے میاں ہر دل پتھر سناٹا ہے
یہ گنگا کس نے پاٹی ہے یہ پربت کس نے کاٹا ہے
چاہت نفرت، دنیا عقبیٰ، یہ خیر خرابی، درد دوا
ہر دھندہ جی کا جوکھم ہے ہر سودا جان کا گھاٹا ہے
کیا جوگ سمادھی و رسدھی کیا کشف و کرامت جذب و جنوں
سب آگ، ہوا، پانی، مٹی، سب دال، نمک اور آٹا ہے

Monday, 12 February 2018

والہانہ مرے دل میں مری جاں میں آ جا

والہانہ مِرے دل میں مِری جاں میں آ جا 
میرے ایماں میں مِرے وہم و گماں میں آ جا 
موند ان آنکھوں کو صاحب نظراں میں آ جا 
حدِ نظارگیٔ کون و مکاں میں آ جا 
آیتِ رحمتِ یزداں کی طرح دل میں اتر 
ایک اک لفظ میں ایک ایک بیاں میں آ جا 

آئینہ سے

آئینہ سے

آئینے! کچھ تو بتا ان کا تو ہمراز ہے تُو
تُو نے وہ زلف وہ مکھڑا وہ دہن دیکھا ہے
ان کے ہر حال کا بے ساختہ پن دیکھا ہے
وہ نہ خود دیکھ سکیں جس کو نظر بھر کے کبھی
تُو نے جی بھر کے وہ ہر خطِ بدن دیکھا ہے
ان کی تنہائی کا دلدار ہے دمساز ہے تُو
آئینے! کچھ تو بتا ان کا تو ہمراز ہے تُو

اپنا تو ابد ہے کنج مرقد

ازل ۔ ابد

اپنا تو ابد ہے کنجِ مرقد
جب جسم سپرد خاک ہو جائے
مرقد بھی نہیں وہ آخری سانس
جب قصۂ زیست پاک ہو جائے
وہ سانس نہیں شکستِ امید
جب دامن دل ہی چاک ہو جائے

میں جانتا ہوں کہ آنسو فنا کا لمحہ ہے

داد گر

میں جانتا ہوں کہ آنسو فنا کا لمحہ ہے
اسے تِری نگۂ جاوداں سے ربط نہیں
میں جانتا ہوں کہ تُو بھی شکار دوراں ہے
متاعِ جاں کے سوا اس قمار خانے میں
ہر ایک نقد نفس ہار کر پشیماں ہے
مگر یہ ربط ہے کیسا یہ کیا تعلق ہے

Saturday, 2 January 2016

آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا

آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا
کیا کہوں اور کہنے کو کیا رہ گیا
ان کی آنکھوں میں کیسے چھلکنے لگا
میرے ہونٹوں پہ جو ماجرا رہ گیا
ایسے بچھڑے سبھی راہ کے موڑ پر
آخری ہم سفر راستہ رہ گیا

الجھاؤ کا مزہ بھی تیری بات ہی میں تھا

الجھاؤ کا مزا بھی تیری بات ہی میں تھا
تیرا جواب تیرے سوالات ہی میں تھا
سایہ کسی یقین کا بھی جس پر نہ پڑ سکا
وہ گھر بھی شہرِ دل کے مضافات ہی میں تھا
الزام کیا ہے، یہ بھی نہ جانا تمام عمر
ملزم تمام عمر حوالات ہی میں تھا

Saturday, 26 December 2015

آہ بے اثر نکلی نالہ نارسا نکلا

آہ بے اثر نکلی نالہ نارسا نکلا
اک خدا پہ تکیہ تھا وہ بھی آپ کا نکلا
کاش وہ مریض غم یہ بھی دیکھتا عالم
چارہ گر یہ کیا گزری درد جب دوا نکلا
اہل خیر ڈوبے تھے نیکیوں کی مستی میں
جو خراب صہبا تھا بس وہ پارسا نکلا

یہ رات رات بھی ہے اوڑھنا بچھونا بھی

یہ رات رات بھی ہے اوڑھنا بچھونا بھی
اس ایک رات میں ہے جاگنا بھی سونا بھی
وہ حبس دم ہے زمیں آسماں کی وسعت میں
کہ ایسا تنگ نہ ہو گا لحد کا کونا بھی
انہیں سوال ہی لگتا ہے میرا رونا بھی
عجب سزا ہے جہاں میں غریب ہونا بھی