Saturday, 2 January 2016

الجھاؤ کا مزہ بھی تیری بات ہی میں تھا

الجھاؤ کا مزا بھی تیری بات ہی میں تھا
تیرا جواب تیرے سوالات ہی میں تھا
سایہ کسی یقین کا بھی جس پر نہ پڑ سکا
وہ گھر بھی شہرِ دل کے مضافات ہی میں تھا
الزام کیا ہے، یہ بھی نہ جانا تمام عمر
ملزم تمام عمر حوالات ہی میں تھا
اب تو فقط بدن کی مروت ہے درمیان
تھا ربطِ جان و دل کا تو شروعات ہی میں تھا
مجھ کو تو قتل کر کے مناتا رہا ہے جشن
وہ ذی لحاظ شخص میری ذات ہی میں تھا

عزیز قیسی

No comments:

Post a Comment