Showing posts with label ناظم سلطانپوری. Show all posts
Showing posts with label ناظم سلطانپوری. Show all posts

Monday, 2 February 2026

یہ دوڑ دھوپ بہ ہر صبح و شام کس کے لیے

 یہ دوڑ دھوپ بہ ہر صبح و شام کس کے لیے

بس ایک نام کی خاطر یہ نام کس کے لیے

مِرا وجود بصد اہتمام کس کے لیے

تمام عمر جلا صبح و شام کس کے لیے

یہاں تو کوئی نہیں اونگھتے دیوں کے سوا

بھرا ہے تم نے محبت کا جام کس کے لیے

Tuesday, 12 November 2024

گھر کو ویرانہ کریں عیش کی پروا نہ کریں

 گھر کو ویرانہ کریں عیش کی پروا نہ کریں

تیری آنکھوں کا اشارہ ہو تو کیا کیا نہ کریں

دست وحشت ہو تو کیوں بات جنوں کی جائے

جیب و دامن ہیں تو کیوں گل کی تمنا نہ کریں

آپ سے میری گزارش ہے کیوں یوں شام و سحر

میری خواہش سے زیادہ مجھے دیکھا نہ کریں

Wednesday, 18 September 2024

وہ ایک پل کو مجھے اتنا سچ لگا تھا کہ بس

 وہ ایک پل کو مجھے اتنا سچ لگا تھا کہ بس

وہ حادثہ تھا مگر ایسا حادثہ تھا کہ بس

وہ پہلے پہلے ملا تھا تو یوں سجا تھا کہ بس

پھر اس کے بعد تو ایسا اجڑ گیا تھا کہ بس

میں اپنے گاؤں کے دیوار و در پہ کیا لکھتا

وہاں تو ایسا اندھیرا چنا ہوا تھا کہ بس

Monday, 16 September 2024

باندھ کر کمر جب بھی ہم پئے سفر نکلے

 باندھ کر کمر جب بھی ہم پئے سفر نکلے

زندگی کے سب رستے تیری رہگزر نکلے

سوچتے ہیں کیوں آخر ذوق سجدہ ریزی میں

ہم جہاں جبیں رکھیں وہ تِرا ہی در نکلے

جو تھے ناپنے والے زخم دل کی گہرائی

 اپنی شوخ نظروں سے کتنے بے خبر نکلے