یہ دوڑ دھوپ بہ ہر صبح و شام کس کے لیے
بس ایک نام کی خاطر یہ نام کس کے لیے
مِرا وجود بصد اہتمام کس کے لیے
تمام عمر جلا صبح و شام کس کے لیے
یہاں تو کوئی نہیں اونگھتے دیوں کے سوا
بھرا ہے تم نے محبت کا جام کس کے لیے
یہ دوڑ دھوپ بہ ہر صبح و شام کس کے لیے
بس ایک نام کی خاطر یہ نام کس کے لیے
مِرا وجود بصد اہتمام کس کے لیے
تمام عمر جلا صبح و شام کس کے لیے
یہاں تو کوئی نہیں اونگھتے دیوں کے سوا
بھرا ہے تم نے محبت کا جام کس کے لیے
گھر کو ویرانہ کریں عیش کی پروا نہ کریں
تیری آنکھوں کا اشارہ ہو تو کیا کیا نہ کریں
دست وحشت ہو تو کیوں بات جنوں کی جائے
جیب و دامن ہیں تو کیوں گل کی تمنا نہ کریں
آپ سے میری گزارش ہے کیوں یوں شام و سحر
میری خواہش سے زیادہ مجھے دیکھا نہ کریں
وہ ایک پل کو مجھے اتنا سچ لگا تھا کہ بس
وہ حادثہ تھا مگر ایسا حادثہ تھا کہ بس
وہ پہلے پہلے ملا تھا تو یوں سجا تھا کہ بس
پھر اس کے بعد تو ایسا اجڑ گیا تھا کہ بس
میں اپنے گاؤں کے دیوار و در پہ کیا لکھتا
وہاں تو ایسا اندھیرا چنا ہوا تھا کہ بس
باندھ کر کمر جب بھی ہم پئے سفر نکلے
زندگی کے سب رستے تیری رہگزر نکلے
سوچتے ہیں کیوں آخر ذوق سجدہ ریزی میں
ہم جہاں جبیں رکھیں وہ تِرا ہی در نکلے
جو تھے ناپنے والے زخم دل کی گہرائی
اپنی شوخ نظروں سے کتنے بے خبر نکلے