جس جگہ بھی ملا گھنا سایا
ہم نے کچھ دیر کو سکوں پایا
ہم نوید سحر میں غلطاں تھے
ظلمت شب نے آ کے چونکایا
ہم مقدر ہیں دھوپ کا یارو
ہم پہ ہنستا ہے کس لیے سایا
جس جگہ بھی ملا گھنا سایا
ہم نے کچھ دیر کو سکوں پایا
ہم نوید سحر میں غلطاں تھے
ظلمت شب نے آ کے چونکایا
ہم مقدر ہیں دھوپ کا یارو
ہم پہ ہنستا ہے کس لیے سایا
تنہائی میں دکھتے لمحے جب کچھ یاد دلاتے ہیں
سائے سائے کتنے چہرے آنکھوں میں پھر جاتے ہیں
اب تو اچھے دل والوں کا قحط سا پڑتا جاتا ہے
لیکن نقلی چہرے والے دل اپنا بھرماتے ہیں
چھو جاتی ہے جب بھی آ کر یادوں کی پروائی سی
ننھے ننھے کتنے دیپک پلکوں میں جل جاتے ہیں
ہیں کس لیے اداس کوئی پُوچھتا نہیں
رستہ خود اپنے گھر کا ہمیں سُوجھتا نہیں
نقشِ وفا کسی کا کوئی ڈُھونڈتا نہیں
اہلِ وفا کا پھر بھی بھرم ٹُوٹتا نہیں
اہلِ ہُنر کی بات تھی اہلِ نظر کے ساتھ
اب تو کوئی بھی ان کی طرف دیکھتا نہیں
اب تو سوچ لیا ہے یارو! دل کا خوں ہو جانے دوں
جن لوگوں نے درد دیا ہے میں ان کو افسانے دوں
اور ذرا سی دیر میں تھک کر سو جائیں گے تارے بھی
کب تک گھائل ہونٹوں کو میں گیت بِرہ کے گانے دوں
اپنے جنوں کا سینہ چھلنی ہونے دوں میں کب تک اور
اتنے سارے فرزانے ہیں کس کس کو سمجھانے دوں
ہم نے گھٹتا بڑھتا سایا پگ پگ چل کر دیکھا ہے
ہر راہی اک دھندلا پن ہے ہر جادہ اک دھوکا ہے
ہم بھی کسی لمحے کی انگلی تھام کے اک دن چل دیں گے
تُو نے تو اے جانے والے! جانے کو کیا جانا ہے
ماضی کی بے نام گُپھا میں بیٹھے بیٹھے سوچتے ہیں
نگر نگر ہے شہرت اپنی، گھر گھر اپنا چرچا ہے