Showing posts with label وشو ناتھ درد. Show all posts
Showing posts with label وشو ناتھ درد. Show all posts

Sunday, 18 February 2024

جس جگہ بھی ملا گھنا سایا

 جس جگہ بھی ملا گھنا سایا

ہم نے کچھ دیر کو سکوں پایا

ہم نوید سحر میں غلطاں تھے

ظلمت شب نے آ کے چونکایا

ہم مقدر ہیں دھوپ کا یارو

ہم پہ ہنستا ہے کس لیے سایا

Saturday, 17 February 2024

تنہائی میں دکھتے لمحے جب کچھ یاد دلاتے ہیں

تنہائی میں دکھتے لمحے جب کچھ یاد دلاتے ہیں

سائے سائے کتنے چہرے آنکھوں میں پھر جاتے ہیں

اب تو اچھے دل والوں کا قحط سا پڑتا جاتا ہے

لیکن نقلی چہرے والے دل اپنا بھرماتے ہیں

چھو جاتی ہے جب بھی آ کر یادوں کی پروائی سی

ننھے ننھے کتنے دیپک پلکوں میں جل جاتے ہیں

Friday, 1 December 2023

ہیں کس لیے اداس کوئی پوچھتا نہیں

 ہیں کس لیے اداس کوئی پُوچھتا نہیں

رستہ خود اپنے گھر کا ہمیں سُوجھتا نہیں

نقشِ وفا کسی کا کوئی ڈُھونڈتا نہیں

اہلِ وفا کا پھر بھی بھرم ٹُوٹتا نہیں

اہلِ ہُنر کی بات تھی اہلِ نظر کے ساتھ

اب تو کوئی بھی ان کی طرف دیکھتا نہیں

Tuesday, 28 November 2023

اب تو سوچ لیا ہے یارو دل کا خوں ہو جانے دوں

 اب تو سوچ لیا ہے یارو! دل کا خوں ہو جانے دوں

جن لوگوں نے درد دیا ہے میں ان کو افسانے دوں

اور ذرا سی دیر میں تھک کر سو جائیں گے تارے بھی

کب تک گھائل ہونٹوں کو میں گیت بِرہ کے گانے دوں

اپنے جنوں کا سینہ چھلنی ہونے دوں میں کب تک اور

اتنے سارے فرزانے ہیں کس کس کو سمجھانے دوں

Thursday, 28 July 2022

ہم نے گھٹتا بڑھتا سایہ پگ پگ چل کر دیکھا ہے

 ہم نے گھٹتا بڑھتا سایا پگ پگ چل کر دیکھا ہے

ہر راہی اک دھندلا پن ہے ہر جادہ اک دھوکا ہے

ہم بھی کسی لمحے کی انگلی تھام کے اک دن چل دیں گے

تُو نے تو اے جانے والے! جانے کو کیا جانا ہے

ماضی کی بے نام گُپھا میں بیٹھے بیٹھے سوچتے ہیں

نگر نگر ہے شہرت اپنی، گھر گھر اپنا چرچا ہے