خود ہی اپنا راز خود ہی راز داں بن جاؤں گا
ایک لمحے کا یقیں ہوں پھر گماں بن جاؤں گا
حرف کی صورت زباں پر ایک بار آنے تو دو
دیکھتے ہی دیکھتے میں داستاں بن جاؤں گا
ابتدا میں اک علامت تھا گزرتے وقت کی
انتہا تک اگلے وقتوں کا نشاں بن جاؤں گا
خود ہی اپنا راز خود ہی راز داں بن جاؤں گا
ایک لمحے کا یقیں ہوں پھر گماں بن جاؤں گا
حرف کی صورت زباں پر ایک بار آنے تو دو
دیکھتے ہی دیکھتے میں داستاں بن جاؤں گا
ابتدا میں اک علامت تھا گزرتے وقت کی
انتہا تک اگلے وقتوں کا نشاں بن جاؤں گا
اپنے رنج و غم بانٹے ہم سے با خبر نکلے
ساتھ چلنے والوں میں کوئی ہم سفر نکلے
بے سعادتی ٹھہرے خواہ اب ہنر نکلے
سب نے جس سے روکا تھا ہم وہ کام کر نکلے
اک عجیب سناٹا محو شعر خوانی تھا
ہم جہاں جہاں پہونچے ہم جدھر جدھر نکلے
سخت نا ہموار و مشکل تھا مگر ایسا نہ تھا
میں نے جب راہیں تراشی تھیں سفر ایسا نہ تھا
کس زمانے کا حوالہ دے رہے ہو دوستو
آج سے پہلے تو جینے کا ہنر ایسا نہ تھا
شامل حالات اگر ہوتیں نہ کچھ خوش فہمیاں
میری قسمت میں بھٹکنا در بدر ایسا نہ تھا
نادانیوں کو ایک نیا رنگ دے دیا
دانستہ میں نے ہاتھ تہ سنگ دے دیا
میرا خیال تھا یہ کوئی نیک کام ہے
میں نے تمہارے درد کو آہنگ دے دیا
دنیا میں اور مجھ میں پھر اک بار ٹھن گئی
فطرت نے میرے ہاتھ میں پھر چنگ دے دیا