Showing posts with label بلراج حیرت. Show all posts
Showing posts with label بلراج حیرت. Show all posts

Sunday, 9 November 2025

خود ہی اپنا راز خود ہی رازداں بن جاؤں گا

 خود ہی اپنا راز خود ہی راز داں بن جاؤں گا

ایک لمحے کا یقیں ہوں پھر گماں بن جاؤں گا

حرف کی صورت زباں پر ایک بار آنے تو دو

دیکھتے ہی دیکھتے میں داستاں بن جاؤں گا

ابتدا میں اک علامت تھا گزرتے وقت کی

انتہا تک اگلے وقتوں کا نشاں بن جاؤں گا

Thursday, 6 November 2025

اپنے رنج و غم بانٹے ہم سے با خبر نکلے

 اپنے رنج و غم بانٹے ہم سے با خبر نکلے

ساتھ چلنے والوں میں کوئی ہم سفر نکلے

بے سعادتی ٹھہرے خواہ اب ہنر نکلے

سب نے جس سے روکا تھا ہم وہ کام کر نکلے

اک عجیب سناٹا محو شعر خوانی تھا

ہم جہاں جہاں پہونچے ہم جدھر جدھر نکلے

Saturday, 28 December 2024

سخت نا ہموار و مشکل تھا مگر ایسا نہ تھا

 سخت نا ہموار و مشکل تھا مگر ایسا نہ تھا

میں نے جب راہیں تراشی تھیں سفر ایسا نہ تھا

کس زمانے کا حوالہ دے رہے ہو دوستو

آج سے پہلے تو جینے کا ہنر ایسا نہ تھا

شامل حالات اگر ہوتیں نہ کچھ خوش فہمیاں

میری قسمت میں بھٹکنا در بدر ایسا نہ تھا

Tuesday, 26 November 2024

نادانیوں کو ایک نیا رنگ دے دیا

 نادانیوں کو ایک نیا رنگ دے دیا

دانستہ میں نے ہاتھ تہ سنگ دے دیا

میرا خیال تھا یہ کوئی نیک کام ہے

میں نے تمہارے درد کو آہنگ دے دیا

دنیا میں اور مجھ میں پھر اک بار ٹھن گئی

فطرت نے میرے ہاتھ میں پھر چنگ دے دیا