پلٹنے والوں کو ہم نے دیکھا تھا ان کے حلیے بتا رہے تھے
سفر یہ مُشکل ترین تھا جس پہ ہم لوگ جا رہے تھے
گواہ رہنا اے دشت! تُو بھی، ملال ہم کو ذرا نہیں تھا
پُرانے زخموں کو درگُزر کر، نئے کی جگہیں بنا رہے تھے
جب اس نے دیکھا تو شہرِ دل میں عجیب ہلچل مچا کے رکھ دی
بدن کے بے حس تمام اعضاء، نظر کا نخرہ اُٹھا رہے تھے
کچھ اس طرح سے ہماری رگ رگ میں زہر اُداسی کا بھر گیا ہے
کہ ہم تو ان وصل کے دنوں میں بھی گیت اُداسی کے گا رہے تھے
ہیں لوگ ایسے بھی کچھ ہمارے جو موقع پائیں تو پاؤں چُومیں
ہم اپنی پیشانی اس کی جانب بس اتنا کہہ کر بڑھا رہے تھے
ندیم ظہیر
No comments:
Post a Comment