Showing posts with label فیض محمد شیخ. Show all posts
Showing posts with label فیض محمد شیخ. Show all posts

Friday, 16 July 2021

کنویں کے پاس گئے پیاس لب پہ دھر آئے

 کنویں کے پاس گئے پیاس لب پہ دھر آئے

تمہارا گھر نہ سہی در تو دیکھ کر آئے

ہمارے زخم ادھیڑو، مگر خیال رہے

تمہارے ہونٹ نہ لرزیں نہ آنکھ بھر آئے

میں خود ہی تیری محبت میں مبتلا ہوا تھا

سو میرے قتل کا الزام میرے سر آئے

Thursday, 8 July 2021

دل و دماغ پہ کچھ ایسا بوجھ ڈالا گیا

 دل و دماغ پہ کچھ ایسا بوجھ ڈالا گیا

تِرا خیال بھی مجھ سے نہیں سنبھالا گیا

مجھے قبول نہیں تھا بچھڑ کے مر جانا

اسی لیے تو کہانی سے میں نکالا گیا

گزرنے والے مجھے دیکھتے ہیں حیرت سے

یہ کیسے چاک پہ میرا وجود ڈھالا گیا

Friday, 2 July 2021

بہتر تھا دل لگ جاتا ویرانی سے

 بہتر تھا دل لگ جاتا ویرانی سے

مشکل اور بڑھی ہے نقل مکانی سے

ساگر کے اُس پار جو سورج ڈُوبا ہے

آگ نکل کر آ سکتی ہے پانی سے

بس اس بات کا ڈر ہے تجھ کو کھو دوں گا

اور کچھ خوف نہیں ہے یار کہانی سے

Sunday, 25 April 2021

میں ڈھونڈ تو رہا ہوں مگر مل نہیں رہا

 میں ڈھونڈ تو رہا ہوں مگر مل نہیں رہا

جیسے کہ میرے سینے میں اب دل نہیں رہا

جانے کہاں سے خون کا چشمہ اُبل پڑے

یہ گھر مزید رہنے کے قابل نہیں رہا

منطق، دلیل، فلسفے بے کار جائیں گے

اب ذہن تیری باتوں پہ مائل نہیں رہا

Tuesday, 6 April 2021

پانی کو آگ آگ کو پانی شمار کر

 پانی کو آگ، آگ کو پانی شمار کر

تُو جیسے چاہے ویسے معانی شمار کر

فلموں میں مرنے والوں پہ آنسو بہائے جا

جو سچ میں مر گیا وہ کہانی شمار کر

آنکھیں بتا ہی دیتی ہیں اندر کی داستاں

تُو لاکھ نوکرانی کو رانی شمار کر

Saturday, 3 April 2021

سوچتے کب ہیں کب ٹھہرتے ہیں

 سوچتے کب ہیں کب ٹھہرتے ہیں

کرنے والے تو کر گزرتے ہیں

کچھ سوالات ہیں خدا سے مِرے

تم خدا ہو تو بات کرتے ہیں

ایک سیارہ کھینچتا ہے ہمیں

جب قدم کہکشاں پہ دھرتے ہیں

Friday, 2 April 2021

تمہارے غم کا سہارا بھی کام آتا ہے

 تمہارے غم کا سہارا بھی کام آتا ہے

کبھی کبھی یہ کنارہ بھی کام آتا ہے

جسے حقیر سمجھتے ہیں عیش کوشی میں

پھر ایک دن وہ گزارہ بھی کام آتا ہے

تُو کچھ نہ بول نہ لب کھول صرف آنکھ اٹھا

گداگروں کو اشارہ بھی کام آتا ہے

Friday, 26 March 2021

ہر ایک شخص کہاں سوئے دار آتا ہے

 ہر ایک شخص کہاں سُوئے دار آتا ہے

کسی کسی کے جُنوں پر نکھار آتا ہے

کبھی کبھی تو خوشی زہر لگنے لگتی ہے

کبھی کبھی تو اُداسی پہ پیار آتا ہے

فریب دیتے ہیں خود کو بھی دوسروں کو بھی

یہ بار بار کسے اعتبار آتا ہے