کنویں کے پاس گئے پیاس لب پہ دھر آئے
تمہارا گھر نہ سہی در تو دیکھ کر آئے
ہمارے زخم ادھیڑو، مگر خیال رہے
تمہارے ہونٹ نہ لرزیں نہ آنکھ بھر آئے
میں خود ہی تیری محبت میں مبتلا ہوا تھا
سو میرے قتل کا الزام میرے سر آئے
کنویں کے پاس گئے پیاس لب پہ دھر آئے
تمہارا گھر نہ سہی در تو دیکھ کر آئے
ہمارے زخم ادھیڑو، مگر خیال رہے
تمہارے ہونٹ نہ لرزیں نہ آنکھ بھر آئے
میں خود ہی تیری محبت میں مبتلا ہوا تھا
سو میرے قتل کا الزام میرے سر آئے
دل و دماغ پہ کچھ ایسا بوجھ ڈالا گیا
تِرا خیال بھی مجھ سے نہیں سنبھالا گیا
مجھے قبول نہیں تھا بچھڑ کے مر جانا
اسی لیے تو کہانی سے میں نکالا گیا
گزرنے والے مجھے دیکھتے ہیں حیرت سے
یہ کیسے چاک پہ میرا وجود ڈھالا گیا
بہتر تھا دل لگ جاتا ویرانی سے
مشکل اور بڑھی ہے نقل مکانی سے
ساگر کے اُس پار جو سورج ڈُوبا ہے
آگ نکل کر آ سکتی ہے پانی سے
بس اس بات کا ڈر ہے تجھ کو کھو دوں گا
اور کچھ خوف نہیں ہے یار کہانی سے
میں ڈھونڈ تو رہا ہوں مگر مل نہیں رہا
جیسے کہ میرے سینے میں اب دل نہیں رہا
جانے کہاں سے خون کا چشمہ اُبل پڑے
یہ گھر مزید رہنے کے قابل نہیں رہا
منطق، دلیل، فلسفے بے کار جائیں گے
اب ذہن تیری باتوں پہ مائل نہیں رہا
پانی کو آگ، آگ کو پانی شمار کر
تُو جیسے چاہے ویسے معانی شمار کر
فلموں میں مرنے والوں پہ آنسو بہائے جا
جو سچ میں مر گیا وہ کہانی شمار کر
آنکھیں بتا ہی دیتی ہیں اندر کی داستاں
تُو لاکھ نوکرانی کو رانی شمار کر
سوچتے کب ہیں کب ٹھہرتے ہیں
کرنے والے تو کر گزرتے ہیں
کچھ سوالات ہیں خدا سے مِرے
تم خدا ہو تو بات کرتے ہیں
ایک سیارہ کھینچتا ہے ہمیں
جب قدم کہکشاں پہ دھرتے ہیں
تمہارے غم کا سہارا بھی کام آتا ہے
کبھی کبھی یہ کنارہ بھی کام آتا ہے
جسے حقیر سمجھتے ہیں عیش کوشی میں
پھر ایک دن وہ گزارہ بھی کام آتا ہے
تُو کچھ نہ بول نہ لب کھول صرف آنکھ اٹھا
گداگروں کو اشارہ بھی کام آتا ہے
ہر ایک شخص کہاں سُوئے دار آتا ہے
کسی کسی کے جُنوں پر نکھار آتا ہے
کبھی کبھی تو خوشی زہر لگنے لگتی ہے
کبھی کبھی تو اُداسی پہ پیار آتا ہے
فریب دیتے ہیں خود کو بھی دوسروں کو بھی
یہ بار بار کسے اعتبار آتا ہے