کنویں کے پاس گئے پیاس لب پہ دھر آئے
تمہارا گھر نہ سہی در تو دیکھ کر آئے
ہمارے زخم ادھیڑو، مگر خیال رہے
تمہارے ہونٹ نہ لرزیں نہ آنکھ بھر آئے
میں خود ہی تیری محبت میں مبتلا ہوا تھا
سو میرے قتل کا الزام میرے سر آئے
جُنوں کے دشت میں اب تاحیات چلنا ہے
میں چاہتا ہوں کہ میرا کبھی نہ گھر آئے
تمہارے ہجر کا اب جا کے اختتام ہوا
ہم آج آخری دریا کے پار اُتر آئے
فیض محمد شیخ
No comments:
Post a Comment